بھارت-پاکستان جھڑپیں، بالی وڈ میں جنگی موضوعات اور حب الوطنی کا نیا رجحان

جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں حریف ملک بھارت اور پاکستان نے مئی کے مہینے میں ایک دوسرے پر توپ خانہ، ڈرونز اور ہوائی حملے کیے، جب بھارتی حکومت نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحوں پر مسلح حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔ پاکستان نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

لڑائی اس وقت ختم ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک جنگ بندی کا اعلان کیا۔
اب بالی وڈ کے کچھ فلم ساز اس تنازعے کو منافع بخش موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ’آفت میں موقع تلاش کرو‘ کا پیغام بار بار دیا ہے۔

بھارت نے پاکستان کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کو ’’آپریشن سیندور‘‘ کا نام دیا، جو ہندی میں اُس سرخ رنگ کے پاؤڈر کو کہتے ہیں جو شادی شدہ ہندو خواتین اپنی ماتھے کی مانگ میں لگاتی ہیں اور سہاگ کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

یہ نام اس جذبے کی نمائندگی کرتا ہے کہ بھارت نے ان بیوہ خواتین کے شوہروں کے قتل کا بدلہ لینا ہے، جو 22 اپریل کو کشمیر کے پہلگام میں حملے میں مارے گئے تھے، جس کے بعد یہ جھڑپیں شروع ہوئیں۔

فلم ساز کمپنیوں نے اس آپریشن سے متاثر ہو کر کئی فلمی عنوانات رجسٹر کروائے ہیں، جن میں ’مشن سیندور‘، ’سندور: بدلہ‘، ’پہلگام کا دہشت گردی کا واقعہ‘ اور ’سیندور آپریشن‘ شامل ہیں۔

ہدایت کار وویک اگنی ہوتری نے کہا، ’’یہ ایک کہانی ہے جو سنائی جانی چاہیے۔ اگر یہ ہالی ووڈ ہوتا تو اس موضوع پر دس فلمیں پہلے ہی بنا چکا ہوتا۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ پردے کے پیچھے کیا ہوا۔‘‘

رنگین تصویر
حکمران دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اگنی ہوتری کے موقف کی حمایت کی، حالانکہ ان پر یہ بھی تنقید کی گئی کہ وہ بھارت میں اقلیت مسلمانوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔

تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ 2014 میں جب ہندو قوم پرست نریندر مودی اقتدار میں آئے تو بالی وڈ پر حکومت کے نظریات کی ترویج کا دباؤ بڑھ گیا۔

فلم نقاد اور اسکرین رائٹر راجہ سین کے مطابق فلم ساز خود کو حکومت کے موافق ماحول میں محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

راجہ سین نے پاکستان کے ساتھ جھڑپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے جنگ شروع کی، مگر جب ٹرمپ نے ہمیں روک دیا تو ہم خاموش ہو گئے۔
تو پھر یہاں بہادری کہاں ہے؟‘‘

مشہور ہدایت کار انیل شرما، جو جذباتی فلموں کے لیے جانے جاتے ہیں، نے پہلگام حملے پر فلم بنانے کی دوڑ پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بھیڑ چال ہے… یہ موسمی فلم ساز ہیں، جن کے اپنے حالات ہوتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’میں کسی واقعے کا انتظار نہیں کرتا کہ اس پر فلم بنا سکوں۔
جب کسی موضوع سے اندر سے جذبات اٹھیں تب جا کر فلم بنائی جاتی ہے۔‘‘

انیل شرما کی ہٹ تاریخی ایکشن فلم ’غدر: ایک پریم کتھا‘ (2001) اور اس کا سیکوئل ’غدر 2‘ (2023)، دونوں سنی دیول کی اداکاری سے مزین، شاندار کامیابیاں حاصل کر چکی ہیں۔

بالی وڈ میں فلم ساز اکثر قومی تہواروں جیسے یومِ آزادی کے قریب اپنی فلمیں ریلیز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب عوام میں حب الوطنی کا جوش ہوتا ہے۔

فلم ’فائٹر‘، جس میں ہریتک روشن اور دیپیکا پاڈوکون نے مرکزی کردار ادا کیے، گذشتہ سال بھارت کے یوم جمہوریہ سے ایک دن پہلے 25 جنوری کو ریلیز ہوئی تھی۔

مسلم مخالف رجحانات
اگرچہ ’فائٹر‘ حقیقت پر مبنی نہیں تھی، مگر یہ بھارت کے 2019 میں پاکستان کے بالا کوٹ پر کیے گئے فضائی حملے سے متاثر تھی۔ فلم کو ملی جلی پذیرائی حاصل ہوئی لیکن یہ بھارت میں 2.8 کروڑ ڈالر کما کر سال کی چوتھی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی ہندی فلم بن گئی۔

اسی سال فلم ’چھاوا‘، جو مراٹھا سلطنت کے حکمران سمبھاجی مہاراج کی زندگی پر مبنی ہے، سب سے بڑی ہٹ رہی۔ تاہم، اس پر مسلمانوں کے خلاف تعصب کے الزامات بھی لگے۔

راجہ سین نے کہا، ’’یہ وہ وقت ہے جب سینما میں مسلمانوں کو شدت پسند اور پرتشدد شکل میں دکھایا جا رہا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ فلم ساز ایسے موضوعات سے گریز کرتے ہیں جو ’حکومت کے خلاف‘ ہوں۔

راجہ سین کے مطابق، ’’اگر عوام کو مسلسل ایک ہی نظریہ کے تحت فلمیں دکھائی جائیں اور دوسرے فریق کو اپنی بات کہنے کا موقع نہ دیا جائے تو یہ پروپیگنڈہ بن جاتا ہے اور غلط معلومات عوام میں رچ بس جاتی ہیں۔‘‘

معروف ہدایتکار رکیش اوم پرکاش مہرا نے کہا کہ حقیقی حب الوطنی وہ ہے جو امن اور بھائی چارے کو فروغ دے۔

مہرا کی سماجی و سیاسی فلم ’رنگ دے بسنتی‘ (2006) کو قومی ایوارڈ ملا اور اسے ’گولڈن گلوب‘ اور ’آسکر‘ کے لیے بھارت کی طرف سے نامزد بھی کیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا، ’’ہم امن کیسے قائم کریں اور بہتر معاشرہ کیسے بنائیں؟ ہم اپنے پڑوسیوں سے محبت کیسے کریں؟ میرے نزدیک یہی اصل حب الوطنی ہے۔‘‘