گوگل کی نئی مصنوعی ذہانت: صارفین کی عمر کا اندازہ لگا کر ڈیجیٹل تحفظ کو بہتر بنایا جائے گا

گوگل ایک جدید مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام متعارف کرا رہا ہے جو صارفین کے براؤزنگ ڈیٹا کی مدد سے ان کی عمر کا تخمینہ لگائے گا، حتیٰ کہ ان صارفین کی بھی جنہوں نے اپنی عمر گوگل کو فراہم نہیں کی۔

یہ نیا نظام سرچ اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر صارفین کی پرائیویسی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا، اور ابتدا میں اسے یورپی یونین میں ڈیجیٹل سیفٹی قوانین کی پاسداری کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے جہاں نابالغوں کو نقصان دہ مواد سے بچانا لازمی ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ صرف صارفین کے دیے گئے ڈیٹا پر انحصار کیے بغیر، مختلف سگنلز اور میٹا ڈیٹا کی مدد سے صارف کی عمر کا درست اندازہ لگایا جائے گا تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کس صارف کو کس قسم کا مواد دکھایا جائے۔

تاہم، پرائیویسی کے حامی اس نظام پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس میں غلطیوں کا امکان ہے اور شفافیت اور صارفین کی رضامندی کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔

گوگل نے یقین دلایا ہے کہ یہ اقدامات قوانین کے مطابق ہیں اور اس کا مقصد کم عمر صارفین کو نامناسب مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح کے الگورتھمز ذاتی معلومات جیسے عمر کا اندازہ لگا کر مواد کی نگرانی اور پابندیوں کو ممکن بناتے ہیں، جو ڈیجیٹل پرائیویسی، سنسرشپ اور آن لائن مواد کے کنٹرول پر جاری مباحثے میں ایک اہم اضافہ ہے۔