وہ دمکتی ہوئی لَو کہانی ہوئی

وہ دمکتی ہوئی لَو کہانی ہوئی
——————-

امجد اسلام امجد
——————-

وہ چمک دار شعلہ فسانہ ہوا
———————–
چار اگست ، معروف شاعر اور ڈراما نگار امجد اسلام امجد کا یومِ پیدائش
————————
تحریر : اطہر اقبال
———————-

آج چار اگست معروف شاعر ، ڈراما نگار ، کالم نگار امجد اسلام امجد صاحب کا یومِ ولادت ہے ، شاعری اور ٹی وی ڈراما نگاری دونوں ہی شعبہ جات میں اپنی منفرد شناخت بنانے والے امجد اسلام امجد چار اگست 1944 کو لاہور میں پیدا ہوئے ، پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے(اردو) کیا اور درس وتدریس سے منسلک ہوگئے ، چلڈرن کمپلیکس لاہور محکمہ تعلیم کے لیے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں ، ٹیلی وژن کے لیے آپ کے تحریر کیے ہوئے ڈرامے وارث ، دہلیز ، سمندر ، وقت ، بہت مقبول ہوئے ، خاص طور پر ڈراما سیریل وارث نے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی ، آپ کی خوب صورت شاعری اور اعلیٰ ادبی خدمات پر حکومتِ پاکستان نے آپ کو 1987 میں “صدارتی تمغہ حُسنِ کارکردگی” اور 1998 میں “ستارہ امتیاز” عطا کیا ، 2019 میں ترکی حکومت نے آپ کو اپنا اعلیٰ ثقافتی ایوارڈ دیا جو ترکی سے باہر پوری دنیا سے منتخب کسی ایک قلم کار شخصیت کو پیش کیا جاتا ہے ، ترکی کا اعلیٰ ثقافتی ایوارڈ ” نجیب فاضل ایوارڈ” جس پُروَقار تقریب میں دیا گیا اُس میں ترک صدر مہمانِ خصوصی تھے اور یہ تقریب 21 دسمبر کو استنبول میں منعقد ہوئی تھی ، شعری مجموعوں میں سے ” فشار” 1983 کو “قومی ہجرہ ایوارڈ” “عکس” 1976 کو بہترین شعری تراجم کا ” رائٹرز گلڈ ایوارڈ” ، تنقید کی کتاب ” نئے پرانے ” پر بھی ایوارڈ دیا گیا ، 1975 میں آپ کو ٹی وی ڈراما” خواب جاگتے ہیں ” پر ” گریجویٹ ایوارڈ “دیا گیا ، اس کے علاوہ بھی آپ کو کئی ایوارڈز مل چکے ہیں ، آپ کئی کتابوں کے مصنف ہیں –
امجد اسلام امجد صاحب بہت ہی محبت کرنے والی شفیق شخصیت کے مالک تھے ، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام منعقدہ عالمی اردو کانفرنس میں تسلسل کے ساتھ شرکت کرتے تھے اور یہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر جناب احمد شاہ کا ہی کمال ہے کہ عالمی اردو کانفرنس میں ہمیشہ ہی ایسی ایسی کمال کی شخصیات اور نگینوں کو جمع کر تے ہیں کہ نہ صرف اہلِ سخن کی تشنگی دور ہو جاتی ہے بلکہ شہر میں بھی ادبی فضا بَن جاتی ہے ، امجد اسلام امجد صاحب سے میری ملاقاتیں بھی عموماً آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ہی میں ہوا کرتی تھیں جب کہ ایک بار انھوں نے مجھے ملاقات کے لیے اُس ہوٹل میں بھی بلایا جہاں وہ کراچی آمد کے بعد ٹھہرے ہوئے تھے ، یہ اُس وقت کی بات ہے جب میری کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی ” کا دوسرا حصہ معروف اشاعتی ادارے ” فرید پبلشرز ” کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والا تھا میری خواہش تھی کہ میری کتاب پر امجد اسلام امجد صاحب کچھ ضرور تحریر کریں اس حوالے سے میری اُن سے فون پر گفت گو بھی ہوتی تھی مجھے بہت پیار اور شفقت کے ساتھ مخاطب کرتے کچھ عرصہ فون پر رابطہ رہا اس کے بعد انھوں نے میری کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی ” کے لیے اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے میرے لیے یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ نہ صرف امجد اسلام امجد صاحب نے میری کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی ” کو بہت پسند کیا بلکہ ایک بار انھوں نے مجھے لاہور سے فون کر کے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میری کتاب ” ایک کہاوت ایک کہانی” انھیں زیادہ تعداد میں چاہییں کیوں کہ وہ اس کتاب کو کچھ اسکولوں کے لیے خریدنا چاہتے تھے مجھے اُس وقت بہت خوشی محسوس ہو رہی تھی کہ انھوں نے کتاب “ایک کہاوت ایک کہانی ” کو اس قدر پسند کیا میں نے امجد اسلام امجد صاحب سے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کا بہت شُکریہ ادا کیا جواب میں انھوں نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور مجھے تلقین کی کہ ” لکھنے کے کام کو جاری رکھو ، تمھاری کہانیوں میں بچوں کے لیے دل چسپی بھی ہے اور سبق بھی ساتھ ہی بچے کہاوتوں اور مُحاوَرں کا استعمال بھی سیکھ رہے ہیں ”
یہ سُطُور لکھتے ہوئے مجھے امجد اسلام امجد صاحب کا ایک شعر یاد آگیا

امجد کتابِ جاں کو وہ پڑھتا بھی کس طرح

لکھنے تھے جتنے لفظ ابھی حافظے میں تھے

امجد اسلام امجد صاحب نے شعر و ادب کی متعدد اَصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور ہر صنف میں خود کو منوایا ہے ، امجد اسلام امجد صاحب کی شعر و ادب سے کمال کی محبت اور وابستگی تھی ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے بھی کئی تصانیف منظرِ عام پر آئیں اور وہ بھی ایک سے بڑھ کر ایک ، اس موقع پر مجھے امجد اسلام امجد صاحب کا ہی ایک شعر یاد آگیا

شہرِ سخن میں ایسا کچھ کر عزت بن جائے

سَب کچھ مٹی ہو جاتا ہے عزت رہتی ہے

امجد اسلام امجد صاحب اپنی گفت گو میں بھی اکثر بہت خوب صورت اشعار استعمال کر تے اور بات اگر ہنسنے مسکرانے کی ہو تو تَفَنٌُن کا اظہار بھی بہت خوب صورت طریقے سے کرتے ، اُن کا ایک شعر ملاحظہ کیجیے

نہ کوئی غم خزاں کا ہے نہ کوئی خواہش ہے بہاروں کی

ہمارے ساتھ ہے امجد کسی کی یاد کا موسم

امجد اسلام امجد صاحب کی اب یادیں ہی رہ گئی ہیں ، ایک انتہائی نفیس اور شفیق شخصیت کی یادیں جو دَس فروری 2023 کو اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے ، اُن کا ایک شعر ملاحظہ کیجیے

جیسے بارش سے دھلے صحنِ گلستاں امجد

آنکھ جب خشک ہوئی اور بھی چہرہ چمکا

امجد اسلام امجد خود بھی شکر گزار بندے تھے اور اپنے اشعار کے ذریعے دوسروں کو بھی شکر گزاری کا پیغام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں جیسے کہ اُن کا یہ شعر

کہاں آکے رُکے تھے راستے کہاں موڑ تھا اسے بھول جا

وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو نہیں ملا اسے بھول جا

اللہ تعالیٰ ، ہم سَب کو اپنا شکر گزار بندہ بنائے اور امجد اسلام امجد سمیت تمام مسلمانوں کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے ،آمین –