آسٹریلیا کے مشرقی علاقوں میں برسوں بعد شدید برفباری

آسٹریلیا کے مشرقی حصے میں کئی قصبے کئی دہائیوں کے بعد غیر معمولی برفباری سے ڈھک گئے ہیں، جس نے علاقے کو سفید چادر میں لپیٹ دیا ہے۔ اس کے علاوہ، شدید بارشوں کی وجہ سے سیلاب آیا ہے اور متعدد حادثات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، مشرقی آسٹریلیا کے مختلف حصوں میں موٹی برف کی تہہ جم گئی ہے، جب کہ رواں ہفتے بارشوں کے باعث شدید سیلاب آیا، جس کی وجہ سے کئی گاڑیاں پھنس گئیں اور بجلی کی بندش سے سیکڑوں گھر متاثر ہوئے۔

نیو ساؤتھ ویلز کے محکمہ موسمیات کی ماہر، میریام برانڈبری کے مطابق ہفتے کو اس علاقے میں 16 انچ برفباری ہوئی، جو 1980 کی دہائی کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاست کوئنزلینڈ میں بھی 10 سال بعد برفباری ہوئی ہے۔

میریام نے مزید بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آسٹریلیا میں موسم کے حالات خراب ہو رہے ہیں، تاہم اس طرح کے شدید واقعات ماضی میں بھی کئی بار پیش آ چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس برفباری کی خاص بات برف کی زیادہ مقدار اور وسیع رقبے پر پھیلاؤ ہے، جس نے شمالی علاقوں کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز کی ایمرجنسی سروس نے بتایا کہ کئی جگہوں پر تیز بارش ہوئی ہے اور اب تک 1445 سے زائد حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ برف میں 100 سے زائد گاڑیاں پھنس گئی ہیں جبکہ تیز ہواوں نے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایمرجنسی حکام نے متعدد سیلاب الرٹس بھی جاری کیے ہیں۔

آسٹریلیا کی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق، کئی سو گھروں میں رات بھر بجلی بند رہی۔

نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس نے بتایا کہ ہفتے کی رات ایک سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے کار میں سوار 20 سالہ لڑکی کو بہا لے گیا، جس کی تلاش جاری ہے۔