“چینی کے بحران کے درمیان بجلی کی پیداوار کی لاگت میں اضافہ، درآمد کاحکومتی فیصلہ”

“چینی کے بحران کے درمیان بجلی کی پیداوار کی لاگت میں اضافہ، حکومت کی درآمد کا فیصلہ”

تفصیلات:
حکومت پاکستان نے چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے 2 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دوسری طرف گنے کے پھوک (بیگاس) سے بجلی بنانے کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو اب مقامی کوئلے کے برابر ہو چکی ہے۔

لاہور اور دیگر شہروں کے بازاروں میں چینی کی دستیابی مشکل ہوتی جا رہی ہے، جبکہ حکومتی نرخ (173 روپے فی کلو) پر چینی ناپید ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ شوگر ملز چینی سپلائی نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں قیمتیں 190 سے 195 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔

وزارتِ قومی غذائی تحفظ کا کہنا ہے کہ درآمد شدہ چینی کی پہلی کھیپ ستمبر کے شروع میں پہنچ جائے گی، جس سے قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ تاہم، چینی ڈیلرز کو خدشہ ہے کہ قلت اور مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔

دوسری جانب، گنے کے پھوک سے بجلی بنانے کی لاگت گزشتہ تین سال میں 5.97 روپے سے بڑھ کر 11.77 روپے فی یونٹ ہو گئی ہے، جو مقامی کوئلے (11.45 روپے) کے قریب ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیگاس میں کوئلے جتنی ہیٹنگ پاور ہوتی ہے، لیکن بجلی کا ٹیرف غیر ضروری طور پر بڑھایا گیا ہے۔ جون میں اس لاگت کو 9.87 روپے تک کم کیا گیا، لیکن یہ اب بھی مہنگا ہے۔

حکومت نے شوگر ملز کو نومبر کے پہلے ہفتے میں گنے کی کرشنگ شروع کرنے کی ہدایت کی ہے، لیکن تاجروں کو شبہ ہے کہ چینی کی دستیابی اور قیمتوں پر فوری کنٹرول مشکل ہو سکتا ہے۔