جو آج کے حالات ہیں اگر یہ حالات عمران خان کو اپوزیشن میں میسر آ جاتے تو انہوں نے قیامت بپا کر دینا تھی

دو ہزار گیارہ سے عمران خان نے اس ملک کی عملی اور اصلی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ اس سے پہلے عمران خان ایک کرکٹ سٹار تھے، شوکت خانم کینسر ہاسپٹل کے بانی تھے۔ لاہور کے جلسے نے عمران خان کی قسمت بدل دی۔
دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے بعد عمران خان کے ’جنون‘ میں اور تندی آگئی۔ انہوں نے نواز شریف حکومت کے ایک ایک عمل پر کھل کر اپوزیشن کی۔ لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا، میڈیا کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور ملک کے طول و عرض کا دورہ کیا۔ جگہ جگہ جلسے کیے اور روزانہ کے حساب سے پریس کانفرنسز کیں۔
حکومت کی نااہلی پر برستے رہے۔ کبھی لاک ڈاؤن اور کبھی دھرنے سے حکومت کو دھمکاتے رہے۔ بجلی کے اضافی بلوں کو نذر آتش کیا۔ آئی ایم ایف سے قرضے لینے کو قومی جرم بتایا۔ پولیس کی چیرہ دستیوں پر انہیں دھمکایا۔ کرپشن کے خلاف قوم کی آواز بنے۔ سانحہ ماڈل ٹاون پر بجلی بن کر کڑکے۔
عوام کو جگہ جگہ احتجاج کی دعوتیں دیں۔ حتیٰ کے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان بھی کر دیا۔ اگرچہ عمران خان حکومت میں آکر اپنے بہت سے وعدے اور عہد و قرار بھول گئے لیکن یہ آج کی تحریر کا موضوع نہیں ہے۔ آج صرف اتنا کہنا مقصود ہے کہ اپوزیشن کرنا عمران خان کو آتا ہے اور انہوں نے اس کا حق ادا بھی کیا۔
دوسری جانب موجودہ اپوزیشن کی طرف نگاہ کریں خاص طور پر مسلم لیگ ن کی سیاست کو دیکھیں تو اپوزیشن کا کردار مفقود نظر آتا ہے۔ موجودہ دور میں معشیت کے حالات پہلے سے دگرگوں ہیں۔ امن و عامہ کی حالت بھی بد تر ہے۔ پولیس بھی اپنی من مانی کر رہی ہے۔ سانحہ ساہیوال بھی ہو چکا ہے۔
بجلی کی قیمیتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ پٹرول کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ شرح ترقی بہت زیادہ گر گئی ہے۔ وزیراعظم اسمبلی میں تشریف نہیں لاتے۔ کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی ہے۔ اسمبلی ایک ڈبیٹنگ کلب سے زیادہ کردار نہیں ادا کر رہی۔ آٹے کی قیمت کا سکینڈل آ چکا ہے۔ چینی کی قیمت بڑھ چکی ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس ہم جا چکے ہیں۔ پہلے سے کہیں زیادہ قرضے لے چکے ہیں۔ بین الا قوامی طور پر بارہا ہماری ہزیمت ہو چکی ہے۔
مگر اس سب کے باوجود اس ملک سے اپوزیشن غائب ہے۔ نہ کہیں احتجاج ہو رہا ہے نہ کوئی جلسہ جلوس ہو رہا ہے۔
اس قریباً دو سال کے عرصے میں ن لیگ کی توجہ اپنے لیڈروں کی رہائی ان کی علالت اور ان کے علاج تک محدود رہی ہے۔ یہ بات درست ہے لوگوں کو اپنے قائدین سے بے پناہ عقیدت ہوتی ہے لیکن یہ عقیدت خالی پیٹ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔
لوگ جب ووٹ دیتے ہیں تو ان کے پیش نظر ان کی زندگی کا سب سے بڑا مطالبہ ان کے لیڈروں کی رہائی نہیں ہوتا۔ لوگ اس توقع پر ووٹ دیتے ہیں کہ ہمارے قائدین ہماری فلاح کے لیے کچھ کریں گے۔ ہمارے بچوں کی زندگی پر سکون بنائیں گے۔ ان کو بلاوجہ کی کورٹ کچہری سے نجات دلائیں گے۔ ان کے غم اور خوشی میں ان کا ساتھ دیں گے۔ ان کے بہتر مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ اور کچھ نہیں تو ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور ان کی آواز بنیں گے۔ ان کے حق میں احتجاج کریں گے اور حکومتی ظلم اور ناانصافی کے خلاف ڈھال بنیں گے۔
ملسم لیگ ن نے ان میں سے کچھ بھی نہیں کیا۔ جو آج کے حالات ہیں اگر یہ حالات عمران خان کو اپوزیشن میں میسر آ جاتے تو انہوں نے قیامت بپا کر دینا تھی۔ لیکن ن لیگ سوائے ماتم کے کچھ بھی نہیں کر رہی۔ اس وقت عام آدمی جس مشکل میں ہے اس کا ازالہ اسمبلی میں ایک آدھ تقریر سے نہیں ہو سکتا۔ اس کا ازالہ ٹی وی ٹاک شوز میں ایک مدبر بیانیے سے نہیں ہو سکتا۔ حالات کا تقاضا کچھ اور ہے ایسے میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی منہ میں گھنگنیاں ڈالے، لندن میں قیام کیے کسی ’مبارک‘ فون کا انتظار کر رہی ہے۔
لوگ اس مرحلے پر کچھ اور تقاضا کر رہے ہیں اور آپ اپنے لیڈروں کی رہائی اور قید کا ماتم کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو چاہیے کہ کسی اور سے نہیں عمران خان سے ہی اپوزیشن کرنے کا فن سیکھ لیں۔ کیونکہ خان صاحب نے یہ بات اس قوم کو باور کروا دی ہے کہ وہ اپوزیشن کرنے کے مرد میدان ہیں۔ عوام کو قومی ایشوز پر اپنے ساتھ لے کر چلنا انہیں آتا ہے۔ خاموش رہنا ان کے بس کی بات ہی نہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن آج کل بولنا بھول گئی ہے، نہ پٹرول کی قیمت بڑھنے پر کوئی احتجاج ہوا، نہ گیس کی قیمت میں اضافے پر کوئی جلوس نکالا گیا، نہ آئی ایم ایف سے ڈیل پر دھرنا دیا گیا نہ ڈالر کی قیمت میں اضافے پر لاک ڈاؤن کی کال دی گئی، نہ آٹے کے بحران پر احتجاج کی کال دی گئی نہ میڈیا کے حقوق کے لیے آواز بلند کی گئی نہ بڑھتی بے روزگاری پر پریس کانفرنس کی گئی نہ غربت سے خود کشیاں کرنے والوں کی لاشوں کو چوک میں رکھ کر عوام کو اشتعال دلایا گیا نہ ہی سانحہ ساہیوال پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
یہ صورت حال زیادہ دیر جاری رہی تو ایک کروڑ 35 لاکھ لوگ مایوس ہو جائیں گے۔ جی ٹی روڈ کا کراؤڈ خاموش ہو جائے گا۔ تخت پنجاب ہاتھ سے نکل جائے گا، سول سپریمیسی کے نعرے لگانے والے خاموش ہو جائیں گے اور ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کرنے والوں کو چپ لگ جائے گی۔
اپوزیشن اس طرح نہیں ہوتی جس طرح مسلم لیگ ن کر رہی ہے۔ ایک کروڑ 35 لاکھ ووٹروں کے سوال کا جواب خاموشی نہیں ہو سکتی۔ ایک کروڑ 35 لاکھ ووٹروں کی امیدوں کا جواب زباں بندی نہیں ہو سکتی۔ ایک کروڑ 35 لاکھ ووٹروں کے حقوق کا مطالبہ صرف سناٹا نہیں ہو سکتا ۔
Amaar-Masood-urdunews

اپنا تبصرہ بھیجیں