
03 اگست ، 2025
بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم کا آج آخری روز ہے، جس کے تحت صوبے کے 7 اہم اضلاع میں 5 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق، کوئٹہ، پشین، چمن، ڈیرہ بگٹی، دکی، ژوب اور قلعہ عبداللہ کی 127 ہائی رسک یونین کونسلوں میں یہ مہم ساتویں اور آخری دن بھی جاری ہے۔
پاکستان اور پولیو وائرس: پس منظر اور چیلنجز
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ حکومت اور عالمی ادارے کئی دہائیوں سے اس موذی مرض کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، لیکن محفوظ ویکسینیشن تک رسائی، غربت، اور بعض علاقوں میں شدت پسندی کی وجہ سے یہ مہم مسلسل رکاوٹوں کا شکار رہی ہے۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں میں والدین کی بے اعتمادی اور غلط اطلاعات بھی ویکسینیشن میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
مستقبل کی راہ: عوامی شعور اور تعاون
پولیو کے خاتمے کے لیے سب سے اہم قدم عوامی آگاہی اور تعاون ہے۔ صحت کے کارکنان نے اس مہم کے دوران والدین کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ پولیو کے قطرے محفوظ ہیں اور یہ بچوں کو معذوری سے بچانے کا واحد ذریعہ ہیں۔ حکومت نے سوشل میڈیا اور مقامی رہنماؤں کے ذریعے بھی اس مہم کو فروغ دیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اس مرض سے بچایا جا سکے۔
===============
![]()
خبرنامہ نمبر 5379/2025
خضدار 2 اگست :محکمہ بہبود آبادی ضلع خضدار کے زیر اہتمام، آر ایچ ایس اے سینٹر اور یو این ایف پی اے کے اشتراک سے عالمی یوم آبادی کے موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب کے موقع پر آبادی میں اضافے سے متعلق مسائل پر غور کیا گیا ۔ تقریب کے شرکاء میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اس موقع پر ڈاکٹرز، افیسران، پاپولیشن ویلفیئر کے کارکنان صحافی حضرات اور مختلف این جی اوز کے نمائندوں نے شرکت کی
تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے، سینئر ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر خضدار ڈاکٹر خالدہ عمر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی یوم آبادی منانے کا مقصد زیادہ آبادی سے متعلق مسائل پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ وسائل کم ہیں، جس کی وجہ سے معاشی اور سماجی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالدہ عمر نے مزید کہا کہ ہمیں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے فیملی پلاننگ پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔
اس موقع پر عبدالحلیم مینگل کا کہنا تھا کہ یکم جولائی سے 31 جولائی تک پورے صوبے میں عالمی یوم آبادی کے حوالے سے ہر ضلع میں سیمینار اور تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ محکمہ بہبود آبادی، ترقی اور صحت کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ خاندانی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہوکر ہم ملکی ترقی میں اپنا کر دار ادا کر سکتے ہیں۔ شرکاء کے مطابق 11جولائی کو عالمی آبادی کا دن منایا جاتا ہے آبادی سے متعلق تحقیق کو سامنے رکھ کر معاشی وسماجی ترقی کے پالیسی سالوں کے لئے صحیح صورتحال بتائی جائے تاکہ نئے اعداد شمار کے مطابق ترقی و خوشحالی کے منصوبے بنائے جائے۔ محکمہ بہبود آبادی ضلع خضدار بھی تربیت یافتہ حملے کی مدد سے بچوں اور ماؤں کی صحت کے لئے کام کررہی ہے بہترین حکمت عملی کے تحت فیملی پلاننگ کی سہولتیں محکمے مختلف فلاحی مراکز لیڈی مرکز صحت دستیاب ہیں بچوں اور ماؤں کی صحت سے متعلق اہم کام ہو رہا ہے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کے بارے میں عوام کو شعور و آگاہی دے رہے ہیں متوازن خاندان خوشحال پاکستان کا ضامن ہے۔























