ہمارے معاشرے میں انسانی حقوق کے اصولوں پر اسکی اصل روح کے مطابق عمل نہیں کیا جارہا ہے لیکن ہم نے ہر طبقہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے قوانین نافذ کیے : وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں انسانی حقوق کے اصولوں پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل نہیں کیا جا رہا ہے لیکن ہم نے ہر طبقہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے قوانین نافذ کیے ہیں۔ گھریلو ملازمین سے لے کر اسٹریٹ چلڈرن تک، معاشرتی ورکرز سے لے کر کسانوں تک اور یہاں تک کہ خواتین کو بھی بااختیار بنایا ہے اب ہماری توجہ معاشرے میں ان قوانین کے عملدرآمد پر دی جارہی ہے جن کامناسب طریقے سے نفاذ نہیں ہوا ہے۔ یہ بات انہوں نے انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ کے زیرقیادت انسانی حقوق کے رکھوالوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ڈائریکٹر نارویجن ہیومن رائٹس فنڈ (ایچ آر ایف) محترمہ سینڈرا پیٹرسن، پروجیکٹ کوآرڈینیٹر نارویجن ایچ آر ایف مسٹر سکاٹ میلسکی سینڈوک، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پائلر کرامت علی، ہانرایبل ایلڈرمین مشتاق لاشاری، پائلر کے ذوالفقار شاہ، انیس ہارون، علی پلھ، ٹریڈ یونین فیڈریشن کے ناصر منصور، سیفٹی کمیشن کے نغمہ اقدرار اور ناظم حاجی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ کی معاونت وزیر تعلیم و محنت سعید غنی، وزیراعلیٰ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، وزیراعلیٰ سندھ کے خصوصی معاون برائے انسانی حقوق ویرجی کولھی، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری لیبر رشید سولنگی، سیکریٹری محکمہ انسانی حقوق بدر جمیل مندصھرو اور دیگر متعلقہ افراد نے کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان کی 73 سالہ تاریخ کا اگر جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ملک میں جمہوریت 23 سال رہی لہذا انسانی حقوق کے اصولوں پر عمدزرآمد ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ لیکن جہاں تک پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی بات ہے تو اس نے 18 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ہی انسانی حقوق سے متعلق 16 قوانین نافذ کیے ہیں۔ انھوں فخریہ کہا کہ ہم جنوبی ایشیاء میں بھی دوسرے صوبوں سے کہیں زیادہ آگے ہیں ۔ صوبائی اسمبلی کے ذریعے منظور کیے گئے انسانی حقوق سے متعلق قوانین میں سندھ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2013، سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ 2014، سندھ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ ایکٹ 2014، سندھ کمپنیز پرافٹ (کارکنوں کی شراکت) ایکٹ 2015، سندھ ورکرز کمپینسیشن ایکٹ 2015، سندھ میں کم سے کم اجرت ایکٹ 2015 شامل ہیں۔ سندھ کے شرائط ملازمت (قائمہ احکامات) ایکٹ 2015۔

سندھ بونڈڈ لیبر سسٹم (خاتمہ) ایکٹ 2015۔ سندھ فیکٹریز ایکٹ2015۔ دکانوں اور تجارتی اسٹیبلشمنٹ ایکٹ 2015، ادائیگی کی اجرت کا ایکٹ 2015۔ پروہبیشن آف ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ 2015۔ سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی ایکٹ 2016۔ سندھ اوکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ 2017۔ سندھ ہوم بیسڈ ورکرز ایکٹ 2018 اور سندھ خواتین زرعی ورکرز ایکٹ 2019۔ کام کرنے کی جگہ جنسی ہراساں ایکٹ 2010 اور ہندو شادی پر پابندی کا ایکٹ۔ جبراً مذہب کی تبدیلی کا قانون بھی نافذ کیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی منصوبوں میں انسانی حقوق سے متعلق تین اسکیمیں شامل کی گئیں۔ ان میں عوام الناس میں شعور اجاگر کرکےانسانی حقوق سے متعلق بنیادی معلومات دی گئی ہیں۔ انسانی حقوق سے متعلق شکایتی ٹول فری نمبر 080000011 قائم کیا گیا ہے جہاں تمام شکایات درج کرائی جاسکتی ہیں۔ تیسرا لیگل ایڈ ہے۔ پانچ اضلاع میں ہیومن رائٹس افسر جبکہ دیگر اضلاع میں ضلعی کوآرڈینیٹر تعینات ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے 2017 میں پہلی مرتبہ لیبر سہ فریقی کانفرنس کا کامیابی سے انعقاد کیا تھا جس میں نامور ملازمین اور مالکان، مزدور رہنما اور سرکاری کارکنان بشمول اسلام آباد کے کنٹری ڈائریکٹر آئی ایل او نے بھی شرکت کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اخلاقیات کانفرنس نے کارکنوں کی پرامن اور بہتر کام کرنے کے ماحول اور فلاح و بہبود کلئے پالیسی اور رہنما خطوط وضع کرنے کلئے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں