سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریحان حمید کی جیوے پاکستان سے خصوصی گفتگو

دھیمے اور نہایت شائستہ انداز میں گفتگو کرنے والے ریحان حمید اپنے شعبے کے کامیاب ذہین قابل اور محنتی لوگوں میں شمار ہوتے ہیں خوش مزاج، خوش لباس ،خوش گفتار اور سادہ طبیعت کے مالک ہیں پیشہ ورانہ معاملات پر گہری دسترس رکھتے ہیں اہم معاملات کے پس منظر کو تکنیکی اصلاحات کے باوجود آسان اور سادہ الفاظ میں بیان کرنے پر انہیں قدرت حاصل ہے اپنے کام کے منجھے ہوئے شخص ہیں پاکستان کی سرکردہ نیوز ویب سائٹ جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں انہوں نے سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے قیام کے پس منظر سے لے کر اس کے موجودہ حالات اور مستقبل کے چیلنجوں اور اہداف کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی – ادارے کی کامیابیوں اور خدمات کو عمدہ انداز سے اجاگر کیا اور بتایا کہ یہ ادارہ کس قدر اہم قومی خدمات انجام دے رہا ہے ۔ماضی میں کینیڈا جانے سے پہلے ریحان حامد کے الیکٹرک میں بیس سال تک اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں انہیں بجلی کی جنریشن ٹرانسمیشن ڈسٹریبیوشن سمیت دیگر اہم امور کے حوالے سے گہرا اور وسیع تجربہ ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ کمپنی اس وقت قائم کرنے کا خیال آیا تھا جب سندھ کے پاس گیس کے وافر ذخائر سامنے آئے اور ان کو بہتر انداز سے استعمال کرنے کا سوچا گیا ابتدا میں اس کمپنی کو کراچی سے 95 کلومیٹر دور نوری آباد کے علاقے سے بجلی کی ترسیل ممکن بنانے کا کام سونپا گیا تھا کیونکہ کہ الیکٹرک کو ڈور اسٹیپ پر بجلی چاہیے تھی۔

یہ کام اس نوزائیدہ کمپنی نے بخوبی انجام دیا اور اس کے تمام ٹیم ممبرز کو اس بات کا خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ انہوں نے ایک انتہائی مشکل کام کم وقت میں مکمل کرکے دکھایا ۔نوری آباد سے کراچی تک کے الیکٹرک کو بجلی فراہم کرنے کے لئے لینڈ روٹ کو فائنل کرنا اور پھر سرکاری زمین کے علاوہ راستے میں آنے والی دیگر زمینوں کے معاملات کو دیکھنا ایک بڑا چیلنج تھا پرائیویٹ لوگوں کے علاوہ کچھ کمپنیاں اور ادارے بھی اس سلسلے میں اپنے کلیم لے کر سامنے آئے لیکن اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا گیا ۔اب ہماری کمپنی این ٹی ڈی سی کے اعتراضات اور خدشات کے باوجود اپنا کام اپنے ڈومین میں رہ کر کرنا چاہتی ہے اور کر رہی ہے نیپرا سے ہمیں لائسنس حاصل ہوچکا ہے اور ہم پورے صوبے میں کسی بھی جگہ کیماڑی سے لے کر کشمور تک بجلی کی ترسیل عمل میں لاسکتے ہیں اب بجلی صرف گیس یا فرنس آئل سے نہیں بن رہی بلکہ کوئلے سے بھی بجلی بنانے کا عمل شروع ہوچکا ہے اس کے علاوہ ونڈمل سندھ میں بہت بڑی تعداد میں لگ چکی ہیں اور سولر بجلی بھی بن رہی ہے سندھ میں انرجی کے بےشمار ذرائع ہیں اور بہت روشن مستقبل ہے ہماری کمپنی کا ویژن یہ ہے کہ ہم سندھ کو روشن کریں گے جس کے ذریعے پورا پاکستان روشن ہوگا سندھ میں بے پناہ وسائل ہیں اور ان سے بہت اچھی طرح استفادہ کیا جائے تو ملک کی انرجی کی ضرورت نہ صرف پوری ہوجاتی ہیں بلکہ سر پلس ہوں گی۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ ہماری کمپنی کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی اہم ذمہ داری مل چکی ہے کے فور منصوبے کے لیے بجلی کی ترسیل کا کام ہماری کمپنی کرے گی ماضی میں حیسکو سے بجلی لی جاتی رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے لیکن حیسکو کو بجلی واپڈا سے آتی ہے اس کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی اس لیے حکومت سندھ چاہتی ہے کہ بجلی کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جائے اس سلسلے میں صوبائی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور یقینی طور پر یہ ایک اہم کام ہے اور آنے والے وقت میں اس کی بہت افادیت ہوگی ۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنوں کو بجلی فراہم کرنے کے لئے پچاس میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہوگی جس کے لیے گریڈ سٹیشن کام کریں گے اور بجلی کی ترسیل کی جائے گی ۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر بحریہ ٹاون جیسے منصوبے اپنے لیے بجلی کی ترسیل کے خواہشمند ہوں تو مستقبل میں ان کی یہ ضروریات ہماری کمپنی پوری کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ ماضی کی نسبت اب بجلی کی ترسیل کے لیے بچھائی جانے والی ٹرانسمیشن لائنیں کمرشل بنیادوں پر بچھائی جاتی ہیں اس لئے ان کی مانگ اور ڈیمانڈ سپلائی کے اصول کو مدنظر رکھا جاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ عام طور پر ہم سرکاری اراضی کے لینڈ روٹ کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس طرح وقت بھی بچ جاتا ہے اور آسانی سے ٹرانسمیشن عمل میں لائی جاتی ہے لیکن جن علاقوں میں پرائیویٹ لینڈ راستے میں آتی ہے ان کے ساتھ معاملات طے کرنے پڑتے ہیں ۔ہماری اولین کوشش ہوتی ہے کہ معاملات کو قانونی اور عدالتی پیچیدگیوں سے بچایا جائے کیونکہ اس طرح کافی وقت ضائع ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ تھر کے کوئلے سے بننے والی بجلی کی ٹرانسمیشن فلحال این ٹی ڈی سی کے ساتھ وفاقی حکومت کے طے پانے والے معاہدوں کی وجہ سے این ٹی ڈی سی کی ذمہ داری ہے وہاں پر ایس ٹی ڈی سی کا فی لحال کوئی کردار نہیں ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہم این ٹی ڈی سی کے ساتھ کسی تصادم تنازعے میں نہیں جانا چاہتے بلکہ ہماری اتنی خواہش ہے کہ ہمیں آنے والے دنوں میں کہیں پر بھی نیٹ ٹرانسمیشن لائن کا کام ملے اور ہم اس پر توجہ دیں ۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے قیام کے وقت تیرہ سو 1300ملین روپے کی گرانٹ اور قرضہ لیا گیا تھا یہ حکومت سندھ نے فراہم کیا تھا اس کو دو حصوں میں تقسیم کر کے کمپنی اپنا کام چلا رہی ہے کمپنی کے مالی معاملات مستحکم ہیں اور آنے والے دنوں میں بہتر حکمت عملی کے تحت ان معاملات کو مزید مستحکم بنایا جائے گا ۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں