سی پیک کے ترجیحی منصوبے دھابیجی اسپشل اکنامک زون کو 1500 ایکڑ مزید زمین دیں تاکہ انفرااسٹرکچر کی ترقی کا کام شروع ہوسکے : وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بورڈ آف روینیو کو ہدایت کی کہ وہ سی پیک کے ترجیحی منصوبے دھابیجی اسپشل اکنامک زون کو 1500 ایکڑ مزید زمین دیں جوکہ اس وقت 1530 ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اسکے ساتھ زمین کا ٹائٹل بھی اسپشل اکنامک زون کو منتقل کیا جائے تاکہ انفرااسٹرکچر کی ترقی کا کام شروع ہوسکے۔ انھوں نے کہا کہ دھابیجی اسپشل اکنامک زون میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے صوبہ سندھ میں ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی اورہنرمند اور غیر ہنرمند افراد کیلئے بڑی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے دھابیجی اسپشل اکنامک زون کی منظوری حاصل کرنے کیلئے لگاتار کوشش کی اور بالآخر میں اسے صوبے کے لوگوں کے لئے حاصل کیا۔ انھوں نے یہ بات آج دھابیجی اکنامک زون کے معاملات سے متعلق وزیراعلییٰ ہاؤس میں معنقد ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف روینیو قاضی شاہد پرویز، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری انویسٹمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز ذوالفقار شاہ، سیکریٹری ورکس عمران عطا سومرو ، کمشنر حیدرآباد عباس بلوچ، ڈی جی پی پی پی یونٹ خالد شیخ ، ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان، پروجیکٹ ڈائریکٹر کے فور اسد ضامن اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے چیف سیکریٹری نے کہا کہ سنگین اور اہم مسائل میں زمین کی منتقلی باہمی سڑکوں کی تعمیر ، بجلی کی فراہمی ، دہلیز پر پانی کی فراہمی، گیس کی فراہمی اور وہاں پر جاری کی گئی کان کنی کی لیزوں کی منسوخی شامل ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف روینیو نے اجلاس کو بتایا کہ اکنامک زون کے لئے 1530 ایکڑ زمین مختص کی گئی ہے اس پر وزیراعلیی سندھ نے انھیں ہدایت کی کہ وہ مختص کردہ زمین کے ساتھ مزید 1500 ایکڑ زمین انھیں فراہم کریں تاکہ دھابیجی اسپشل اکنامک زون 3000 ایکڑ سے زائد رقبے پر قائم ہوسکے۔ سیکریٹری انویسٹمنٹ نجم شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ دھابیجی اسپشل اکنامک زون کی ترقی کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر طلب کیا گیا ہے اور یہ 20 اپریل 2020 کو کھولا جائے گا۔ سیکریٹری سرمایہ کاری نے کہا کہ پورٹ قاسم کے ساتھ براہ راست منسلک کرنے کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پورٹ قاسم کے ساتھ رسائی کے لیے دھابیجی کریک سائیڈ دستیاب ہے اور یہ تقریبا 8 تا 10 کلومیٹر سڑک ہوگی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تجویز کی منظوری دیتے ہوئے اسکی پی سی ون کی تیاری کی ہدایت کی۔

پانی:
اجلاس کو بتایا گیا کہ دھابیجی اسپشل اکنامک زون کو 10 ایم جی ڈی کی ضرورت ہے لہٰذہ وزیراعلیٰ سندھ نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ پمپنگ اسٹیشن کے قیام کے لیے ایک اسکیم تیار کریں اور اسپشل اکنامک زون میں پانی فراہم کریں۔
آر او ڈبلیو:
اجلاس کو بتایا گیا کہ رائیٹ آف وے (آر او ڈبلیو) محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو اسپشل اکنامک زون کے ساتھ ملحقہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے دیا جاسکتا ہے۔ ایک بار باہمی سڑکیں تعمیر ہوجائیں تو دیگر کام بجلی اور پانی کی لائنوں کی بچھانے میں آسانی ہوجائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بورڈ آف رونیو کو ہدایت کی کہ آر او ڈبلیو محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے حوالے کیا جائے تاکہ ملحقہ سڑکوں کی تعمیر شروع ہوسکے۔

بجلی:
سیکریٹری سرمایہ کاری نجم شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے دھابیجی اسپشل اکنامک زون کے لیے 20-2019 میں پی ایس ڈی پی کے ذریعے 220 کے وی گرڈ مختص کی ہے جسکے لیے 3.95 بلین روپے کے پی سی ون کی منظوری دی گئی ہے۔ پاور ڈویژن نے این ٹی ڈی سی کے ذریعے کے الیکٹرک کی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے اسکیم اسپانسر کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بورڈ آف روینیو کو ہدایت کی کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر گرڈ اسٹیشن کے قیام کے لیے پانج ایکڑ کی ڈیمارکیشن اور مختص کریں۔ دھابیجی اسپشل اکنامک زون کو بجلی کی فراہمی کے لیے 220 کے وی ہائی رائیز ٹرانسمیشن لائین کے لیے آر او ڈبلیو درکار ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بورڈ آف روینیو /ڈی سی ٹھٹہ کو ہدایت کی کہ وہ ٹرانسمیشن لائین کے لیے آر او ڈبلیو کی ڈیمارکیشن کے کام کو تیز کریں۔
گیس:
ایس ایس جی سی ایل نے 13.5 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پی ایس ڈی پی کے ذریعے فراہمی کے لیے 428 ملین روپے کا پی سی ون وزارت پیٹرولیم ڈویژن کو جمع کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کہ وہ وزارت پیٹرولیم سے بات کریں تاکہ اس درخواست پر تیزی سے کام ہوسکے۔
لیز:
سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز ذوالفقار شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ دھابیجی اسپشل اکنامک زون کے علاقے میں ریت اورمٹی اٹھانے کے لیے 16 لیزیں دی گئی تھیں ان میں سے 14 لیزیں منسوخ کردی گئی ہیں جبکہ 2 منسوخی کے مراحل میں ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایک ماہ کے اندر وہ دوبارہ دھابیجی اسپشل اکنامک زون کی ترقی کے لیے دی گئی ہدایات پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں