بالی وڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کو بالآخر ان کی فلم جوان میں بہترین اداکاری پر پہلا نیشنل فلم ایوارڈ مل گیا، جو ان کے طویل اور کامیاب کیریئر کا ایک یادگار اور جذباتی سنگِ میل بن گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، 71ویں نیشنل فلم ایوارڈز کا اعلان کیا گیا، جس میں شاہ رخ خان کو بہترین اداکار کا اعزاز دیا گیا۔ تین دہائیوں سے زائد پر محیط فلمی سفر کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب انہیں بھارت کے سب سے بڑے فلمی اعزاز سے نوازا گیا، حالانکہ وہ برسوں سے شاندار پرفارمنسز دے چکے ہیں۔
شاہ رخ خان، جنہیں مداح پیار سے “کنگ خان” اور “بالی ووڈ کا بادشاہ” کہتے ہیں، نے 1992 میں فلم دیوانہ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد وہ دل والے دلہنیا لے جائیں گے، سوادیس، چک دے انڈیا، اور مائی نیم از خان جیسی یادگار فلموں میں نظر آئے، جنہیں ناقدین اور عوام دونوں نے بے حد سراہا۔
2004 میں سوادیس میں انہوں نے ناسا کے انجینیئر موہن بھارگو کا کردار ادا کیا، جبکہ 2007 میں چک دے انڈیا میں کبیر خان کے کردار سے ناظرین کو متاثر کیا۔
2010 کی فلم مائی نیم از خان میں شاہ رخ نے رضوان خان کا کردار ادا کیا جو ایک نفسیاتی بیماری (ایسپرجر سنڈروم) میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کردار نے عالمی سطح پر انہیں بے حد سراہا گیا، اور کئی بین الاقوامی اعزازات بھی ملے۔ تاہم، اُس وقت نیشنل ایوارڈ ان سے چھن گیا اور امیتابھ بچن کو فلم پا کے لیے یہ اعزاز دیا گیا، جہاں انہوں نے ایک ایسے بچے کا کردار نبھایا جو پروجیریا جیسے نایاب مرض میں مبتلا ہوتا ہے۔
شاہ رخ خان کو اس ایوارڈ کے لیے کئی سالوں سے نظرانداز کیا جاتا رہا، باوجود اس کے کہ وہ ہر دور میں اپنی اداکاری کا لوہا منوا چکے ہیں۔ لیکن جوان میں ان کی جذباتی اور بااثر پرفارمنس نے آخرکار انہیں وہ مقام دلا دیا جس کے وہ برسوں سے مستحق تھے۔
یہ ایوارڈ صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شاہ رخ خان نہ صرف بھارت کے مقبول ترین اداکار ہیں بلکہ وہ اداکاری کے اعلیٰ ترین معیار پر بھی پورا اترتے ہیں۔ بالی ووڈ کے لیے یہ لمحہ نہ صرف تاریخ ساز ہے بلکہ شاہ رخ خان کے مداحوں کے لیے بھی ایک دیرینہ خواہش کی تکمیل ہے۔























