پنجاب بھر میں مون سون، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون کی چھٹی لہر کے آغاز کے پیش نظر صوبے کے بیشتر اضلاع کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ 5 اگست سے شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دریائے چناب اور جہلم میں درمیانے سے بلند سطح کے سیلاب کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے نے صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکنا رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ مری، گلیات، چکوال، اٹک، جہلم، گجرات، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ اور حافظ آباد سمیت متعدد اضلاع میں موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ، نارووال، فیصل آباد، ننکانہ صاحب، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سرگودھا، جھنگ اور ساہیوال سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے تمام ضلعی و تحصیل سطح کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے تمام تر پیشگی اقدامات مکمل رکھے جائیں۔ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی الرٹ جاری کیا جا چکا ہے، اور مون سون بارشوں کی شدت گزشتہ ماہ کی نسبت زیادہ ہونے کی توقع ہے۔

ایمرجنسی رسپانس مراکز میں عملہ ہائی الرٹ پر ہے، جبکہ ریسکیو 1122 کی ٹیموں کو بھی فوری رسپانس کے لیے تیار رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جاری کردہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کریں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے والے علاقوں جیسے مری اور گلیات کی طرف غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

کچے گھروں اور کمزور عمارتوں کو بارشوں سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ شہری سیلاب (اربن فلڈنگ) یا اچانک آنے والے پانی (فلیش فلڈنگ) کی صورت میں محفوظ مقامات پر پناہ لیں اور بہتے پانی میں گاڑی گزارنے سے ہر صورت اجتناب کریں۔

پی ڈی ایم اے نے ایک فیکٹ شیٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں لیہ، لاہور، بہاولنگر، بہاولپور، بھکر، سیالکوٹ، نارووال اور قصور میں بارش ریکارڈ کی گئی، اور آئندہ دنوں میں مزید علاقوں میں بارش کا امکان موجود ہے۔

ادارے کے مطابق دریائے چناب (مرالہ)، سندھ (تربیلا، کالا باغ، چشمہ، تونسہ) میں نچلے درجے کا سیلاب ہے، جب کہ دریائے جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح معمول پر ہے۔ نارووال کے بسنتر نالے میں بھی نچلی سطح کی سیلابی کیفیت موجود ہے۔ رودکوہی علاقوں میں گزشتہ شب نچلے سے درمیانے درجے کے سیلابی ریلے گزرے تاہم بروقت اقدامات کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

تربیلا ڈیم اس وقت 88 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 58 فیصد تک بھر چکا ہے۔ بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح 43 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ رواں سیزن کے دوران مختلف حادثات میں 162 افراد جاں بحق، 564 زخمی، 121 مویشی ہلاک اور 214 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے، اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ بچوں کو برساتی نالوں، نشیبی علاقوں اور دریا یا نہروں میں نہانے سے روکا جائے تاکہ قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جائے۔