
کراچی کا عروج و زوال | کیا نجیب بچ سکتا تھا؟ | اقبال یوسف کے دھماکہ خیز انکشافات | حصہ 1
کراچی کا عروج و زوال | کیا نجیب بچ سکتا تھا؟ | اقبال یوسف کے دھماکہ خیز انکشافات | حصہ 1
Rise and Fall of Karachi | Najeeb Could Have Survived? | Iqbal Yousuf Explosive Revelations | Part 1
یہ خبریں کراچی کے سیاسی اور تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتی ہیں، جس میں اقبال یوسف کے انکشافات، ایم کیو ایم کا عروج، پیپلز پارٹی کے دور کی پالیسیاں، اور شہید نجیب جیسے واقعات شامل ہیں۔ کراچی کے زوال کی وجوہات اور لسانی و سیاسی کشمکش پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
اقبال یوسف کے مطابق، کراچی کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا تاکہ یہ شہر ترقی نہ کر سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی دور سے لے کر موجودہ حکومتوں تک، کراچی کو سیاسی گیم کا شکار بنایا گیا۔ شہر کی ترقی کو روکنے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے وسائل کی کمی کی گئی، جس کی وجہ سے آج کراچی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کراچی کو خودمختار حیثیت دے دی جاتی تو آج یہ شہر ایشیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہوتا۔
نجیب احمد کے قتل پر بات کرتے ہوئے اقبال یوسف نے انکشاف کیا کہ اس وقت کی حکومت اور اداروں نے ایم کیو ایم کو سیاسی طور پر سپورٹ کیا، جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور اس کے کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نجیب کو قبل از وقت خبردار کیا گیا تھا کہ وہ ملک چھوڑ کر چلا جائے، لیکن انہوں نے بہادری سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اقبال یوسف کے مطابق، اگر نجیب زندہ ہوتے تو آج کراچی کی سیاست کا نقشہ ہی مختلف ہوتا۔
کراچی کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے اقبال یوسف نے کہا کہ شہر کو جان بوجھ کر انتظامی بحران میں مبتلا رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو وسائل کی کمی، پانی کے مسائل اور ٹرانسپورٹ کے بحران کا سامنا ہے، جبکہ یہ شہر پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کراچی کو فوری طور پر خصوصی حیثیت دی جانی چاہیے اور شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
===========================

لاہور سے گزشتہ روز روانہ ہونے والی سینٹرل ایشیا فرینڈ شپ موٹر بائیک ریلی پشاور پہنچ گئی۔
یہ ریلی 23 دن کے دوران پاکستان، افغانستان، تاجکستان اور ازبکستان سے گزرتے ہوئے 5,000 کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کرے گی جو طورخم، کابل، قندوز، خجند، سمرقند اور بخارا جیسے اہم شہروں سے گزرے گی۔
ریلی میں 11 موٹر بائیکرز شریک ہیں جن کا تعلق پاکستان، افغانستان، تاجکستان اور ازبکستان سے ہے۔ ریلی کا مقصد علاقائی سیاحت ، ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی کو فروغ دینا اور ثقافتی رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔
اسلام آباد میں بائیک ریلی پہنچنے پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس نے کہا کہ پاکستان سیاحت، موسمی تنوع اور ثقافت کے اعتبار سے خودکفیل ملک ہے، آئندہ 5 سے 10 سال کے دوران سیاحت کے شعبے کے لیے ایک نیا وژن متعارف کرایا جائے گا۔
=======================

آسٹریلیا میں بنایا گیا پہلا خلائی راکٹ پرواز کے چند سیکنڈ بعد ہی دھماکے سے پھٹ گیا۔
ایرِس نامی راکٹ بدھ کے روز گِلمور اسپیس ٹیکنالوجیز نے لانچ کیا تھا جس کو بنانے کا مقصد مدار میں چھوٹے سیٹلائٹس کو پہنچانا تھا۔
راکٹ کو آزمائش کے لیے شمالی کوئنزلینڈ کے ایک قصبے باون کے قریب قائم اسپیس پورٹ سے روانہ کیا گیا تھا۔























