کیا بنگلہ دیش میں اردو دم توڑ رہی ہے؟ خصوصی انٹرویو چیئرمین شعبہ اردو ڈھاکہ یونیورسٹی


کیا بنگلہ دیش میں اردو دم توڑ رہی ہے؟ خصوصی انٹرویو چیئرمین شعبہ اردو ڈھاکہ یونیورسٹی

کیا بنگلہ دیش میں اردو دم توڑ رہی ہے؟ خصوصی انٹرویو چیئرمین شعبہ اردو ڈھاکہ یونیورسٹی
Is Urdu Dying in Bangladesh? Exclusive Interview Chairman Urdu Department Dhaka University

“کیا بنگلہ دیش میں اردو ختم ہو رہی ہے؟ ڈھاکہ یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کا خصوصی انٹرویو”

ڈھاکہ، بنگلہ دیش – اردو زبان کی بقا اور فروغ کے حوالے سے ڈھاکہ یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر غلام مولا کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں انہوں نے اردو کے مستقبل، طلباء کے مواقع اور بنگلہ دیش میں اردو بولنے والی کمیونٹی کے حالات پر روشنی ڈالی۔

پروفیسر مولا نے بتایا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی کا اردو شعبہ 1921 سے قائم ہے اور اس وقت 500 سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ جذبات اور ثقافت کا اظہار ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال، فیض احمد فیض، منٹو اور مرزا غالب جیسی شخصیات کو اردو ادب کے عظیم ستونے قرار دیا۔

بنگلہ دیش میں اردو بولنے والی کمیونٹی کے بارے میں پروفیسر مولا کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں تقریباً 20 لاکھ افراد اردو بولتے ہیں، خاص طور پر ڈھاکہ، رنگ پور اور راجشاہی میں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یونیورسٹی میں بین الاقوامی سیمینارز، مشاعروں اور ادبی پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیمی تبادلے کے پروگرامز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے طلباء کے درمیان رابطے بڑھیں گے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو مشورہ دیا کہ وہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی جڑے رہیں تاکہ انسانیت اور ثقافت کی قدریں زندہ رہ سکیں۔
“بنگلہ دیش میں اردو زبان کا مستقبل”
=======================

مورخہ: 01 اگست 2025

کشمور پولیس کی کامیاب کارروائی – تین روز قبل چھینی گئی گاڑی برآمد، اصل مالک کے حوالے

ایس ایس پی کشمور محمد مراد گھانگھرو کی ہدایات پر اے ایس پی کشمور محمد عاشر کی قیادت میں ایس ایچ او گڈو اعجاز احمد کھوسو نے اہم اور کامیاب کارروائی عمل میں لائی۔

کارروائی کے دوران تین روز قبل دیراموڑ کے مقام سے چھینی گئی گولڈن رنگ کی ٹویوٹا کرولا کار (نمبر: AQR 817، ماڈل 2008) برآمد کرلی گئی۔

کار کی رکوری کے بعد اسے اصل مالک غوث بخش مزاری کے حوالے کر دیا گیا، جنہوں نے کشمور پولیس کی بروقت کارروائی پر اطمینان اور شکریہ کا اظہار کیا۔

ایس ایس پی کشمور محمد مراد گھانگھرو نے کامیاب کارروائی پر ٹیم کو سراہا اور کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کشمور پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

ایسے جرائم کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی بھرپور انداز میں جاری رہیں گی۔

ترجمان کشمور پولیس

پریس ریلیز
ضلع کشمور پولیس
مورخہ: 1 اگست 2025

کندھکوٹ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کیمروں کی تنصیب کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کا آغاز — جرائم پر قابو پانے کی جانب اہم پیش رفت

ایس ایس پی کشمور محمد مراد گھانگھرو کی ہدایات پر ایس ڈی پی او کندھکوٹ فراز علی میتلو کی زیرِ نگرانی کندھکوٹ سٹی کے داخلی و خارجی راستوں پر جدید نگرانی کے کیمروں کی تنصیب کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی اور جائزہ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

اس مرحلے میں سیکیورٹی ماہرین اور پولیس افسران کی ٹیم نے مختلف اہم داخلی و خارجی مقامات کا دورہ کیا اور ممکنہ پوائنٹس کی نشاندہی کی، جہاں کیمرے نصب کیے جانے کی صورت میں جرائم پر مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ایس ڈی پی او کندھکوٹ کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا، جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور پولیس کی رسپانس صلاحیت کو مزید تیز کرنا ہے۔

ایس ایس پی کشمور کا کہنا تھا کہ موجودہ سیکیورٹی ضروریات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، اور کیمرہ سسٹم کی تنصیب کے حوالے سے ہر پہلو پر مکمل غور و خوض کے بعد اگلا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔

عوامی تعاون کے بغیر کوئی بھی سیکیورٹی نظام مکمل نہیں ہو سکتا، اس لیے پولیس شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس اقدام کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

ترجمان کشمور پولیس

*حکومتِ پاکستان*
*پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ*
*کراچی*

*پریس ریلیز*

*سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا ای پی زیڈ اے کا دورہ، آپریشنل چیلنجز کا جائزہ*

کراچی، یکم اگست 2025ء — سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے چیئرمین سینیٹر عون عباس کی قیادت میں ایک وفد نے آج ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی (ای پی زیڈ اے) کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔

کمیٹی نے ادارے کو درپیش موجودہ مسائل کا جائزہ لیا اور صنعتی پیداواری صلاحیت میں اضافے اور سرمایہ کاروں کی سہولت کاری کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

وفد میں سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر خالدہ عتیب اور سینیٹر حسنا بانو شامل تھیں۔

کمیٹی نے ای پی زیڈ اے کے حکام کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی، جس میں ادارے کو درپیش اہم آپریشنل اور قانونی مسائل زیر بحث آئے، خاص طور پر ٹیکسیشن (محصولات) کے حالیہ چیلنجز جو سرمایہ کاروں کے اعتماد اور صنعتی ترقی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

بریفنگ کے دوران ای پی زیڈ اے کے چیئرمین اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ ٹیکس پالیسیوں میں عدم تسلسل سے برآمدی زونز میں کام کرنے والے کاروباری اداروں کے لیے مالیاتی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

حکام نے کہا کہ ان حل طلب ٹیکس مسائل کے باعث سرمایہ کاروں میں الجھن پائی جاتی ہے، جو ان مراعات کو متاثر کر رہی ہے جو ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کے قیام کے وقت فراہم کی گئی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ٹیکسیشن میں غیر یقینی صورتحال غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ کمیٹی نے فوری طور پر ای پی زیڈ اے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور وزارت خزانہ کے مابین روابط مضبوط کرنے پر زور دیا تاکہ ٹیکس ڈھانچے کو بہتر بنایا جا سکے اور برآمدی زونز میں سرمایہ کاروں کے لیے پالیسی میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔

کمیٹی کو دیگر آپریشنل اور قانونی مسائل پر بھی بریفنگ دی گئی، جن میں توسیع کے لیے زمین کی کمی، ناقص انفراسٹرکچر، اسکیننگ سہولیات کی عدم موجودگی، اور سیالکوٹ و گوجرانوالہ زونز کی ای پی زیڈ اے کو منتقلی میں تاخیر شامل ہیں۔

اس کے علاوہ بار بار آگ لگنے کے واقعات، کاروباری عمل میں ڈیجیٹائزیشن کی سست رفتاری اور پیشہ ور عملے کی کمی جیسے مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ قانونی معاملات میں خاص طور پر وہ کیسز زیر بحث آئے جو غیر فعال یا بند یونٹس کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی طرف سے دائر کیے گئے ہیں۔ اس وقت مختلف عدالتی فورمز پر 99 مقدمات زیر التواء ہیں، جن میں 18 کیسز سرمایہ کاروں کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں۔ ای پی زیڈ اے حکام نے بتایا کہ سندھ سول کورٹس ترمیمی ایکٹ 2025ء کے بعد ان مقدمات کو ہائی کورٹ سے ڈسٹرکٹ کورٹس میں منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے فیصلوں میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے۔

کمیٹی نے ای پی زیڈ اے کو ہدایت دی کہ زمین الاٹمنٹ سے متعلق تمام زیر التواء قانونی مقدمات کی جامع رپورٹ پیش کی جائے اور زمین کی تقسیم اور ملکیت کے تمام ریکارڈز کو واضح طور پر دستاویزی شکل دی جائے تاکہ مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

سینیٹر عون عباس نے ای پی زیڈ اے کی کوششوں کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ سینیٹ کی کمیٹی ادارے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قانون سازی اور انتظامی سطح پر ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی تاکہ پاکستان کے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کو فعال بنا کر پائیدار صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔