پاکستان اورآئی ایم ایف نے قومی اداروں کی تعداد کم کرنے پر اتفاق کرلیا

پاکستان اورآئی ایم ایف قومی اداروں کی تعداد کم کرنے پر اتفاق کرلیا، قومی اداروں کی تعداد 440 سے کم کرکے 342 کر دی جائے گی، قومی اداروں کی تعداد 30 ستمبر2020ء تک کم کی جائے گی۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان پالیسی مذاکرات کا آغازہوگیا ہے۔ مذاکرات میں معاشی اصلاحات کے پروگرام پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
نیپرا ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کرنے کی مہلت متفقہ طور پر30 جون تک بڑھا دی گئی۔ مذاکرات میں قومی اداروں کی تعداد میں کمی کرنے پر بھی اتفاق کر لیا گیا۔ قومی اداروں کی تعداد 440 سے کم کرکے 342 کر دی جائے گی۔ قومی اداروں کی تعداد 30 ستمبر 2020ء تک کم کی جائے گی۔ پاکستان اسٹیل اور پی آئی اے کا عالمی سند یافتہ آڈیٹرزسے آڈٹ کرانے پربھی بات چیت ہوئی۔بتایا گیا ہے کہ پالیسی مذاکرات میں اسٹیٹ بینک کو مختاری دینے پربھی بات چیت ہوئی۔ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق ترمیمی قانون سازی آئندہ ماہ پیش ہونے کا امکان ہے۔ اسی طرح پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان منی بجٹ لانے پر بھی اتفاق نہ ہوسکا، تاہم پاکستان اور آئی ایم ایف بے بجٹ خسارے کا ہدف 7.5 فیصد کے اندر رکھنے پر اصولی اتفاق کرلیا ہے۔
ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ جولائی تا دسمبر معاشی کارکردگی کا جائزہ مزید چار دن جاری رہے گا۔ آئندہ سہ ماہی تک کیلئے بجلی ، گیس اور ٹیکس محصولات کے اہداف طے کیے جائیں گے۔ جون تک ایف بی آر کو 3153 ارب روپے کا مزید ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنا ہوگا۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے استفادہ نہ کرنے والوں سے 265 ارب وصول کیے جائیں گے۔ یہ رقم محصولاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے استعمال کی جائے گی۔ کامیاب مذاکرات کے بعد پاکستان کو 45 کروڑ ڈالر کی تیسری قسط جاری کرنے کا فیصلہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں