پچھلے چاردنوں میں اسلام آباد میں انتہائی اہم قسم کی حساس میٹنگز ہو رہی ہیں

سینئر معاشی تجزیہ کار فرخ سلیم نے کہا ہے کہ پچھلے دنوں میں اسلام آباد میں انتہائی حساس میٹنگز ہوئیں، کورکمانڈرزکانفرنس کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی نے وزیراعظم نے ملاقات کی، ان میٹنگز کا ایک ہی ایجنڈا ’’مہنگائی‘‘ تھا، ان میٹنگز سے پہلے اور بعد میں وزیراعظم کے بیانات بدل گئے، مہنگائی میں ریلیف دینے کیلئے وزیراعظم کے پاس پالیسی اور ٹیم نہیں ہے۔
انہوں نے اپنے تبصرے میں کہا کہ پچھلے چاردنوں میں اسلام آباد میں انتہائی اہم قسم کی حساس میٹنگز ہو رہی ہیں ، 6 فروری کو کورکمانڈرز کانفرنس ہوئی، کورکمانڈرز کانفرنس کے بعد وزیراعظم عمران خان سے ہمارے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ملنے گئے۔میری اطلاع کے مطابق ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بھی وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی ہے۔

ان میٹنگز کاایک ہی ایجنڈا مہنگائی تھا۔ غور سے دیکھیں ان سے میٹنگز سے پہلے وزیراعظم کے کیا بیانات تھے، اوران میٹنگز کے بعد وزیراعظم کے بیانات کیسے بدل گئے۔ اس سے پہلے وزیراعظم کے بیانات تھے کہ تبدیلی کی راہ میں مافیاز رکاوٹ ہیں، مافیا زتبدیلی نہیں لانے دے رہے۔ اب میٹنگز کے بعد وزیرعظم کے بیانات ہیں کہ اگر ہماری حکومت ریلیف نہیں دے سکتی تو ہمیں حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی کا پیغام وزیراعظم اور پنڈی تک پہنچ گیا ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ سب سے اہم آٹا ہے،ہرپاکستانی سالانہ 115کلوگرام آٹا استعمال کرتا ہے۔ ماہانہ 20 لاکھ ٹن صرف کردیتے ہیں۔اگر آٹے کی 20 روپے فی کلو بڑھ جاتی ہے تو ہمیں 40 ارب کا ٹیکہ لگ جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ عمران خان کے دور میں کیوں ہورہاہے؟ بجلی، چینی ، آٹا سب کیوں ٹیکے لگ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پہلے ہی ٹرک کی بتیاں ہیں اب 50 ہزار ریٹیل اسٹورز کھولنے کی بات کی جا رہی ہے۔
حکومت نے کوئی ایسا کاروبار نہیں کیا جس میں اربوں کاخسارہ نہ کیا ہو۔ مجھے 50کے نمبر سے بڑا ڈر لگتا ہے۔ حکومت کو اصولی فیصلہ کرنا ہوگا کہ حکومت نے دکانیں کھولنی ہیں یا حکومت کرنی ہے۔ جس کام میں حکومت پڑ جاتی ہے اس چیز کا بیڑہ غرق ہوجاتا ہے۔وزیراعظم ریلیف دینا چاہتے ہیں لیکن اس کیلئے کوئی حکمت عملی اور ٹیم نہیں ہے-urdupoint-report

اپنا تبصرہ بھیجیں