پاکستان نے ایک اور اہم خلائی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے آج صبح 7 سے 8 بجے کے دوران اپنا جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کامیابی کے ساتھ مدار میں بھیج دیا۔ یہ لانچ چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں واقع شیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے انجام پایا، جہاں کوائژو-1A راکٹ کے ذریعے سیٹلائٹ کو خلا میں روانہ کیا گیا۔
پاکستانی خلائی ادارے سپارکو کے ترجمان کے مطابق، یہ سیٹلائٹ پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے اور اس کی شمولیت سے ملک کی زمین کے مشاہدے، قدرتی وسائل کی نگرانی اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
یہ جدید سیٹلائٹ ملک میں زرعی پیداوار، شہری ترقی، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور آبادی کی منصوبہ بندی جیسے امور میں ڈیٹا فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ نظام زلزلے، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ جیسے قدرتی سانحات کی بروقت پیشگوئی اور بچاؤ کے اقدامات میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
سپارکو کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹ قومی اراضی کے سروے اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہم شعبوں میں بھی کارآمد ہوگا، جب کہ اسے سی پیک جیسے اہم منصوبوں کی نگرانی اور بہتری میں بھی استعمال کیا جائے گا۔
لانچنگ تقریب اور ویژن 2047
سیٹلائٹ کی لانچنگ کے موقع پر مرکزی تقریب کراچی میں سپارکو کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی، جہاں حکام نے اس تاریخی لمحے کو قومی خلائی پالیسی اور ویژن 2047 کے تحت ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ سپارکو کے مطابق، یہ منصوبہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے خود کفیل ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔
سپارکو ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ سیٹلائٹ پاکستان کا دوسرا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ ہے، جبکہ پہلا سیٹلائٹ 2018 میں بھی چین ہی کے تعاون سے مدار میں بھیجا گیا تھا۔
پاکستان کے 5 سیٹلائٹس مدار میں موجود
ترجمان کے مطابق، پاکستان کے اس وقت مجموعی طور پر پانچ سیٹلائٹس خلا میں سرگرم عمل ہیں۔ نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ نہ صرف ماحولیاتی انتظام بلکہ وسائل کی منصوبہ بندی کے لیے بھی مفید ثابت ہوگا۔























