
خبرنامہ نمبر5318/2025
بیلہ30جولائی :۔. پارلیمانی سیکریٹری برائے سیاحت و ثقافت، نوابزادہ میر زرین خان مگسی نے اے سی آفس بیلہ میں قائم کمپیوٹرائزڈ لوکل ڈومیسائل آفس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ جس کا مقصد عوام کو ڈومیسائل کے حصول میں جدید، شفاف اور تیز ترین سہولیات فراہم کرنا ہے۔افتتاحی تقریب میں ڈپٹی کمشنر لسبیلہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سراج احمد بلوچ ،اسسٹنٹ کمشنر بیلہ، مختلف محکموں کے افسران، قبائلی عمائدین، صحافی، اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس موقع پر نوابزادہ میر زرین مگسی نے کہا کہ یہ قدم عوامی سہولت اور گڈ گورننس کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس نظام سے ڈومیسائل کے اجرا میں شفافیت اور رفتار آئے گی۔ڈپٹی کمشنر حمیرہ بلوچ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل نظام سے نہ صرف عوام کو سہولت میسر آئے گی بلکہ ضلعی انتظامیہ کے کاموں میں بھی بہتری آئے گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿

خبرنامہ نمبر5319/2025
کوئٹہ 30 جولائی:۔ چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سے کنٹری منیجر آر ڈی ایم سی ضرار جمالی اور نائب صدر آر ڈی ایم سی جیمز فرگوسن نے یہاں بدھ کے روز ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، باہمی ترقی میں ممکنہ تعاون اور اسٹریٹجک اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے کا عزم کیا، ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ریکوڈک پروجیکٹ، بلوچستان کے لوگوں کی معیار زندگی بہتر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے وسیع پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی و علاقائی ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری ہوگی۔ یہ منصوبہ بلوچستان کی معیشت کو مضبوط بنا دے گا، جہاں مقامی لوگوں کو بہتر تعلیم، صحت کی سہولیات اور صاف پانی کی فراہمی جیسے سماجی فوائد بھی ملیں گے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5320/2025
تربت30 جولائی :۔ تربت کے سرحدی علاقے ردیگ مند میں پاک ایران جوائنٹ بارڈر مارکیٹ کے فعال آغاز سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایرانی حکام کے علاوہ بلوچستان کے صوبائی وزراء، پارلیمانی سیکریٹریز، ڈویژنل و ضلعی افسران اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں مارکیٹ کے باقاعدہ افتتاح، شیڈول اور انتظامی ا±مور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اتفاق کیا گیا کہ مارکیٹ آئندہ ہفتے سے مرحلہ وار کھولی جائے گی۔ ابتدائی طور پر یہ مارکیٹ ہفتے میں تین دن (پیر، منگل، بدھ) فعال ہوگی، جبکہ ایک ماہ بعد اسے پانچ دن تک وسعت دی جائے گی ایرانی وفد کی قیادت ڈپٹی گورنر ایران مجیب حسنی نے کی، جبکہ پاکستانی وفد میں وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، مشیر کھیل و امور نوجوانان مینا مجید، پارلیمانی سیکریٹریز میر اصغر رند اور حاجی برکت رند، سیکرٹری انڈسٹریز محمد خالد سرپرہ، کمشنر مکران قادر بخش پرکانی، ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ اور دیگر افسران شامل تھے۔صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ ردیگ مند بارڈر مارکیٹ بلوچستان کی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ہے، جو مقامی سطح پر روزگار، تجارت اور استحکام لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور شفاف تجارت کو فروغ دے گا پارلیمانی سیکریٹری برائے انرجی میر اصغر رند نے کہا کہ حکومت سرحدی علاقوں کی ترقی کے لیے پرعزم ہے، اور یہ مارکیٹ اسی وڑن کا عملی مظہر ہے۔ مشیر برائے کھیل مینا مجید نے کہا کہ خواتین اور نوجوان اس مارکیٹ سے بھرپور استفادہ کریں گے، جبکہ قانونی تجارت کے فروغ سے اسمگلنگ کی روک تھام بھی ممکن ہوگی پارلیمانی سیکریٹری برائے فشریز حاجی برکت رند نے مارکیٹ کے آغاز کو پاک ایران تعلقات میں بہتری اور مقامی روزگار کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا یاد رہے کہ اس مارکیٹ کا افتتاح گزشتہ برس وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے کیا تھا، تاہم انتظامی رکاوٹوں کے باعث یہ فعال نہ ہو سکی۔ اب دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی تعاون کے نتیجے میں اس منصوبے کو عملی شکل دی جا رہی ہے، جو سرحدی علاقوں میں معاشی خودمختاری، ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5321/2025
کوئٹہ30جولائی :۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹس کو فعال بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اب تک 100 سے زائد پلانٹس کو فعال کر دیا گیا ہے۔پراجیکٹ ڈائریکٹر سی ڈی ڈبلیو اے سید رحمت اللہ کے مطابق صوبائی وزیر پی ایچ ای سردار عبدالرحمن کھیتران اور سیکرٹری پی ایچ ای ہاشم غلزئی کی خصوصی ہدایات پر اب تک کوئٹہ، پشین، د±کی، لورالائی، اوستا محمد اور کچھی کے علاقوں میں فلٹریشن پلانٹس مکمل فعال کر دیے گئے ہیں جبکہ آئندہ چند دنوں میں مزید 50 پلانٹس کو فعال کر دیا جائے گا۔ڈائریکٹر سی ڈی ڈبلیو اے نے کہا کہ عوام کو صاف اور میعاری پینے کے پانی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5322/2025
خضدار 30 جولائی: ۔ سابق چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما میر عبدالرحمن زہری کا وفد کے ہمراہ ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس سے ملاقات مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیاپیپلز پارٹی ضلع خضدار کے صدر میر عبدالرحمن زہری سینئر نائب صدر قدیر احمد زہری ڈسٹرکٹ کونسل کے ممبر میر جمعہ خان شکرانی پیپلز پارٹی قلات ڈویڑن کے نائب صدر میر زاھد احمد زہری ضلعی انفارمیشن سیکریٹری نصراللہ شاہوانی صوبائی کونسل کے رکن میر عبدالحمید غلامانی رئیس محمد ایوب نوتانی عبدالحی زہری ودیگر پارٹی اراکین کے ہمراہ ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس سے انکے دفتر میں ملاقات کی ملاقات میں میر عبدالرحمن زہری ودیگر پارٹی رہنماو¿ں نے ایس ایس پی کو خضدار میں انتظامی امور سمبھالنے پر مبارکباد دی اور خوش آمدید کہا پیپلز پارٹی کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ملاقات میں ضلع بھر میں امن امان کی صورتحال منشیات چوری چکاری رہزنی جیسے جرائم کی روک تھام جرائم پیشہ سماج دشمن عناصر کی سرکوبی کےلی? اقدامات سمیت دیگر مختلف مسائل پر ایس ایس پی شہزادہ عمر عباس کو خضدار کے مسائل کے بارے میں اگاہ کیا گیا ۔ایس ایس پی خضدار شہزادہ عمر عباس نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے دفتر کا دروازہ ہروقت سب کےلئے کھلاہے انہونے کہاکہ ضلع بھر میں امن قائم کرنا اور جرائم پیشہ سماج دشمن عناصر کی سرکوبی کیلئے بھر پور اقدامات جاری ہیں انہونے مزید کہاکہ اس شہر کو ہم سب نے ملکر جرائم سے پاک امن امان کا گہوارہ بناناہے جہان کمی پشی کوتاہی ہو نشاندہ دہی کرکہ مجھے بتایا جا ئے انشاءاللہ بھر پور کاروائی ہوگی ۔ایس ایس پی شہزادہ عمر عباس نے پیپلز پارٹی کے وفد کی آمد کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
نیشنل ہائیویز اینڈ موٹروے پولیس بلوچستان کی ڈرائیونگ لائسنسنگ اتھارٹی سے متعلق اہم بریفنگ
آج مورخہ 30 جولائی 2025 کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل نیشنل ہائیویز اینڈ موٹروے پولیس بلوچستان، جناب اشفاق احمد خان نے ایس پی ایوب خان ترین اور ڈی ایس پی سلمان آغا کے ہمراہ میڈیا نمائندگان کو نیشنل ہائیویز اینڈ موٹروے پولیس کی کارکردگی، خصوصاً بلوچستان میں قائم کی گئی ڈرائیونگ لائسنسنگ اتھارٹی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
ڈی آئی جی اشفاق احمد خان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے بعد ملک میں پہلی مرتبہ صوبائی سطح پر ڈرائیور لائسنسنگ اتھارٹی کوئٹہ میں قائم کی گئی ہے، جو بلوچستان کے عوام کے لیے ایک “گولڈن اپرچونٹی” ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دو ہزار سے زائد ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ مزید کہا کہ یہاں نیشنل اور انٹرنیشنل دونوں اقسام کے لائسنس جاری کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے کسی بھی شہر یا صوبے سے تعلق رکھنے والا شہری یہاں سے اپنا لائسنس بنوا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خواتین کے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے خواتین افسران ہمہ وقت موجود رہتی ہیں تاکہ سہولت کے ساتھ باوقار ماحول میں ٹیسٹ لیے جا سکیں۔ ڈی آئی جی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے تمام مطلوبہ ٹیسٹ اور مراحل کو مکمل طور پر پورا کرنا اور کامیاب ہونا لازم ہے
بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا SMBZAN انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ, ادارے کی کارکردگی اور سہولیات کو سراہا گیا
بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے معزز اراکین نے آج شیخ محمد بن زاید النہیان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (SMBZAN) کا چئیرمین کمیٹی ڈاکٹر محمد نواز کبزئی کی سربراہی میں تفصیلی دورہ کیا۔ اس موقع پر ممبران کمیٹی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی، شاہدہ روف، صمد خان گورگیج، وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری صحت مجیب الرحمان پانیزئی اور اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمن بھی وفد کے ہمراہ تھے۔
دورے کے دوران اسپتال انتظامیہ نے وفد کو ادارے کی کارکردگی، دستیاب طبی سہولیات، درپیش مسائل اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی۔ کمیٹی کے اراکین نے انسٹیٹیوٹ کے مختلف شعبہ جات کا جائزہ لیا اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی جدید اور معیاری سہولیات کو سراہا۔
اس موقع پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ SMBZAN انسٹیٹیوٹ صوبے میں امراض قلب کے علاج کی جدید ترین سہولیات مہیا کر رہا ہے، جو بلوچستان جیسے پسماندہ علاقے کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
کمیٹی نے ادارے کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ادارے قابلِ تقلید ہیں اور ان کی مضبوطی کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے صحت کے اس دورے کو ادارے کی بہتری اور عوامی فلاح کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
خبرنامہ نمبر5314/2025
کوئٹہ 30 جولائی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سیمینار میں محض تقریریں کرنے کی بجائے کچھ عملی کام بھی کرنے چاہیے. آج کے سیمینار میں وویمن یونیورسٹی کی غریب طالبات کیلئے دو سو اسکالرشپ اور صوبے کے دیگر ناداروں اور معذوروں کیلئے سلائی مشین اور ویل چیئرز کا اعلان کرنے پر وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا. پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈز نے بلوچستان میں کمیونٹی پر مبنی ترقی کے فروغ میں ہمیشہ اہم کردارادا کیا ہے۔ اس نے دیہی اداروں کو مضبوط بنیاد فراہم کی، مارکیٹ تک رسائی کو مو¿ثر بنایا اور نچلی سطح پر خواتین کی قیادت کو فعال انداز میں فروغ دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے معاشی ترقی اور زراعت میں جدت کاری کی جانب پیش رفت میں خواتین کسان کے حوالے سے پی پی اے ایف کے زیرِ اہتمام گورنر ہاو¿س کوئٹہ میں منعقدہ سیمینار کے شرکائ سے خطاب کرتے ہوئے کیا. سیمینار میں وفاقی وزرائ سید عمران احمد شاہ، وجیہہ قمر، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر ربابہ بلیدی، وائس چانسلر سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، چیرمین پی پی اے ایف محمد تحسین، پی پی اے ایف کے سربراہ نادر گل بڑیچ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان کلیم اللہ بابر، ڈائریکٹر جنرل نیوٹیک حسین بخش مگسی، علمائ کرام، مشائخ عظام، مختلف ڈویلپمنٹ آرگنائزیشنز کے نمائندوں سمیت خواتین کسان اور بزنس وویمن کی ایک بڑی تعداد موجود تھی. سیمینار سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج کا سیمینار صرف درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے نہیں بلکہ ان رکاوٹوں کو ختم کرنے کے عزم کی تجدید کا بھی موقع ہے تاکہ کوئی بھی خاتون کسان پیچھے نہ رہ جائے۔ وقت آپہنچا ہے کہ ہم عورتوں کے برابر سماجی مقام اور کردار کو تسلیم کریں. انہوں نے کہا کہ گورنر ہاوس کے دفتری اوقات اور ملاقاتوں میں بھی عورتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور ان کو درپیش مشکلات کا حل نکالنے کو ترجیح دی جاتی ہے. گورنر مندوخیل نے کہا کہ زراعت ہو یا معیشت، تعلیم ہو سیاست ہم کسی طرح بھی خواتین کے کردار کو نظرانداز نہیں کر سکتے. گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ کسان خواتین اور غریب طالبات کی مدد کرتے ہوئے ان کی عزت نفس کا ضرور خیال رکھیں. گورنر مندوخیل نے یورپی یونین، انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر، پی پی اے ایف اور پارٹنر تنظیموں کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا. قبل ازیں وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر ربابہ بلیدی اور پی پی اے ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بڑیچ نے سمینار سے خطاب کیا. آخر میں گورنر بلوچستان نے مقامی زمینداروں میں گرانٹ جبکہ مہمانان گرامی اور منتظمین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیے گئے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5315/2025
کوئٹہ 30جولائی :۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن بلوچستان اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے سوشل ویلفیئر حاجی ولی محمد نوزئی نے ضلع سوراب کے معذور شہری عید محمد اور ان کی ہمشیرہ کے لیے فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد اٹھایا گیا، جس میں دونوں بہن بھائی کی زندگی کی کٹھنائیوں اور بنیادی سہولیات سے محرومی کو دکھایا گیا تھا حاجی ولی محمد نوزئی نے ویڈیو کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کی فلاح و بہبود میری اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے اعلان کیا کہ متاثرہ شہری عید محمد کو فوری طور پر ویل چیئر، بیساکھی اور راشن فراہم کیا جائے گا تاکہ ان کی روزمرہ زندگی آسان بنائی جا سکے انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کے پلیٹ فارم سے صوبے کے دیگر مستحق اور معذور افراد کی بھی ہر ممکن معاونت کی جائے گی، اور یہ پیغام دیا کہ ریاست کسی مظلوم یا محروم کو تنہا نہیں چھوڑے گی حاجی ولی محمد نوزئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، اور انسانی خدمت کا یہ سفر بلاتعطل جاری رہے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5316/2025
چمن30جولائی :۔ ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چمن ماسٹر پلان کو یکم اگست سے 11 اگست تک مکمل طور پر مرحلہ وار فعال کر دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومت کے وژن کے تحت چمن ماسٹر پلان کو یکم اگست سے مرحلہ وار فعال کیا جا رہا ہے اور 11 اگست تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہر سے تمام بس، ویگن اور ٹرک اڈے، سبزی مارکیٹ ماسٹر پلان منتقل کی جا رہی ہیں۔ اس منصوبے سے نہ صرف شہر میں نظم و ضبط اور صفائی کی صورت حال بہتر ہوگی بلکہ درجنوں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ یکم اگست سے ماسٹر پلان سے کوئٹہ کے لیے باقاعدہ ویگن اور بس سروس شروع ہو رہی ہے۔ہر آدھے گھنٹے بعد ماسٹر پلان سے کوئٹہ کے لیے ایک ویگن یا بس روانہ ہوگی۔شہریوں کی سہولت کے لیے چمن شہر اور ماسٹر پلان کے درمیان مفت شٹل سروس بھی فراہم کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ چمن ماسٹر پلان منصوبہ اربوں روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے اور یہ منصوبہ چمن شہر کی ترقی و بہتری کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5317/2025
کوئٹہ 30 جولائی :۔کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل نیشنل ہائیویز اینڈ موٹروے پولیس بلوچستان، جناب اشفاق احمد خان نے ایس پی ایوب خان ترین اور ڈی ایس پی سلمان آغا کے ہمراہ میڈیا نمائندگان کو نیشنل ہائیویز اینڈ موٹروے پولیس کی کارکردگی، خصوصاً بلوچستان میں قائم کی گئی ڈرائیونگ لائسنسنگ اتھارٹی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ڈی آئی جی اشفاق احمد خان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے بعد ملک میں پہلی مرتبہ صوبائی سطح پر ڈرائیور لائسنسنگ اتھارٹی کوئٹہ میں قائم کی گئی ہے، جو بلوچستان کے عوام کے لیے ایک “گولڈن اپرچونٹی” ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دو ہزار سے زائد ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔ مزید کہا کہ یہاں نیشنل اور انٹرنیشنل دونوں اقسام کے لائسنس جاری کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے کسی بھی شہر یا صوبے سے تعلق رکھنے والا شہری یہاں سے اپنا لائسنس بنوا سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خواتین کے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے خواتین افسران ہمہ وقت موجود رہتی ہیں تاکہ سہولت کے ساتھ باوقار ماحول میں ٹیسٹ لیے جا سکیں۔ ڈی آئی جی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے تمام مطلوبہ ٹیسٹ اور مراحل کو مکمل طور پر پورا کرنا اور کامیاب ہونا لازم ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
کوئٹہ، 30 جولائی 2025
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن بلوچستان اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے سوشل ویلفیئر حاجی ولی محمد نوزئی نے ضلع سوراب کے معذور شہری عید محمد اور ان کی ہمشیرہ کے لیے فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد اٹھایا گیا، جس میں دونوں بہن بھائی کی زندگی کی کٹھنائیوں اور بنیادی سہولیات سے محرومی کو دکھایا گیا تھا حاجی ولی محمد نوزئی نے ویڈیو کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ معذور افراد کی فلاح و بہبود میری اولین ترجیحات میں شامل ہے انہوں نے اعلان کیا کہ متاثرہ شہری عید محمد کو فوری طور پر ویل چیئر، بیساکھی اور راشن فراہم کیا جائے گا تاکہ ان کی روزمرہ زندگی آسان بنائی جا سکے انہوں نے کہا کہ محکمہ سماجی بہبود کے پلیٹ فارم سے صوبے کے دیگر مستحق اور معذور افراد کی بھی ہر ممکن معاونت کی جائے گی، اور یہ پیغام دیا کہ ریاست کسی مظلوم یا محروم کو تنہا نہیں چھوڑے گی حاجی ولی محمد نوزئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کے پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، اور انسانی خدمت کا یہ سفر بلاتعطل جاری رہے گا۔
گورنر بلوچستان کا PPAF سیمینار سے خطاب
سیمینار میں محض تقریریں کرنے کی بجائے کچھ عملی کام بھی کرنے چاہیے. آج کے سیمینار میں وویمن یونیورسٹی کی غریب طالبات کیلئے دو سو اسکالرشپ اور صوبے کے دیگر ناداروں اور معذوروں کیلئے سلائی مشین اور ویل چیئرز کا اعلان کرنے پر وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا. پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈز نے بلوچستان میں کمیونٹی پر مبنی ترقی کے فروغ میں ہمیشہ اہم کردارادا کیا ہے۔ اس نے دیہی اداروں کو مضبوط بنیاد فراہم کی، مارکیٹ تک رسائی کو مؤثر بنایا اور نچلی سطح پر خواتین کی قیادت کو فعال انداز میں فروغ دیا۔ کسان خواتین اور غریب طالبات کی مدد کرتے ہوئے ان کی عزت نفس کا ضرور خیال رکھیں
کوئٹہ 30 جولائی: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ سیمینار میں محض تقریریں کرنے کی بجائے کچھ عملی کام بھی کرنے چاہیے. آج کے سیمینار میں وویمن یونیورسٹی کی غریب طالبات کیلئے دو سو اسکالرشپ اور صوبے کے دیگر ناداروں اور معذوروں کیلئے سلائی مشین اور ویل چیئرز کا اعلان کرنے پر وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا. پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈز نے بلوچستان میں کمیونٹی پر مبنی ترقی کے فروغ میں ہمیشہ اہم کردارادا کیا ہے۔ اس نے دیہی اداروں کو مضبوط بنیاد فراہم کی، مارکیٹ تک رسائی کو مؤثر بنایا اور نچلی سطح پر خواتین کی قیادت کو فعال انداز میں فروغ دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے معاشی ترقی اور زراعت میں جدت کاری کی جانب پیش رفت میں خواتین کسان کے حوالے سے پی پی اے ایف کے زیرِ اہتمام گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا. سیمینار میں وفاقی وزراء سید عمران احمد شاہ، وجیہہ قمر، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر ربابہ بلیدی، وائس چانسلر سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، چیرمین پی پی اے ایف محمد تحسین، پی پی اے ایف کے سربراہ نادر گل بڑیچ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان کلیم اللہ بابر، ڈائریکٹر جنرل نیوٹیک حسین بخش مگسی، علماء کرام، مشائخ عظام، مختلف ڈویلپمنٹ آرگنائزیشنز کے نمائندوں سمیت خواتین کسان اور بزنس وویمن کی ایک بڑی تعداد موجود تھی. سیمینار سے خطاب میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج کا سیمینار صرف درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے نہیں بلکہ ان رکاوٹوں کو ختم کرنے کے عزم کی تجدید کا بھی موقع ہے تاکہ کوئی بھی خاتون کسان پیچھے نہ رہ جائے۔ وقت آپہنچا ہے کہ ہم عورتوں کے برابر سماجی مقام اور کردار کو تسلیم کریں. انہوں نے کہا کہ گورنر ہاوس کے دفتری اوقات اور ملاقاتوں میں بھی عورتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور ان کو درپیش مشکلات کا حل نکالنے کو ترجیح دی جاتی ہے. گورنر مندوخیل نے کہا کہ زراعت ہو یا معیشت، تعلیم ہو سیاست ہم کسی طرح بھی خواتین کے کردار کو نظرانداز نہیں کر سکتے. گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ کسان خواتین اور غریب طالبات کی مدد کرتے ہوئے ان کی عزت نفس کا ضرور خیال رکھیں. گورنر مندوخیل نے یورپی یونین، انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر، پی پی اے ایف اور پارٹنر تنظیموں کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا. قبل ازیں وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر ربابہ بلیدی اور پی پی اے ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر گل بڑیچ نے سمینار سے خطاب کیا. آخر میں گورنر بلوچستان نے مقامی زمینداروں میں گرانٹ جبکہ مہمانان گرامی اور منتظمین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیے گئے.
خبرنامہ نمبر5308/2025
کوئٹہ 30 جولائی:۔ صوبائی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں خواتین زراعت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کی قیادت، تربیت اور جدت پر مبنی شراکت کو فروغ دیے بغیر پائیدار ترقی کا خواب ممکن نہیں وہ گورنر ہاو¿س کوئٹہ میں منعقدہ سیمینار “خواتین زراعت میں: قیادت اور جدت کی جانب پیش قدمی” سے خطاب کر رہی تھیں، جو پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ ، حکومت بلوچستان اور پیغامِ پاکستان کے اشتراک سے منعقد ہوا ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ حکومت بلوچستان ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے دیہی و شہری خواتین کو معاشی خودمختاری کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے انہوں نے زور دیا کہ زراعت کے شعبے میں خواتین کو صرف مزدور نہیں بلکہ فیصلہ سازی کا حصہ بنایا جائے تاکہ ان کی صلاحیتیں معاشی استحکام میں عملی کردار ادا کر سکیں انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، وسائل کی کمی اور خوراک کے بحران جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خواتین کسانوں کی شمولیت ناگزیر ہے انہوں نے تجویز دی کہ خواتین کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، مارکیٹ تک رسائی، قرضہ سہولیات اور تربیتی پروگرامز کے ذریعے بااختیار بنایا جائے ڈاکٹر بلیدی نے سیمینار کے انعقاد پر پی پی ایف اے یورپی یونین، اور دیگر اشتراک کنندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان خواتین کی زرعی قیادت کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی سیمینار میں وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران علی شاہ ، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، پی پی ایف اے کے چیف ایگزیکٹو نادر گل بڑیچ سمیت مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندگان، ماہرین، خواتین کسانوں اور نوجوانوں نے شرکت کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5309/2025
کوئٹہ 30 جولائی:۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار گہری دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اور متعدد کمپنیاں صوبے میں سرمایہ کاری کے عملی اقدامات کی تیاری کر رہی ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، زراعت، قابلِ تجدید توانائی، اور سیاحت جیسے شعبے سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع فراہم کرتے ہیں، جنہیں عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ بلال خان کاکڑ نے مزید کہا کہ BBOIT کی مسلسل کوششوں سے نہ صرف بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل ہوئی ہے بلکہ ملکی سطح پر بھی بلوچستان کے بارے میں ایک مثبت سوچ پروان چڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ نے مختصر عرصے میں مختلف شہروں میں سرمایہ کاری کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد کر کے بلوچستان کے مواقع کو نمایاں کیا، جن میں بزنس لیڈرز اور سرمایہ کارگروپوں کے وفود نے بھرپور شرکت کی۔ سرمایہ کاروں کو سہولت دینے کے لیے بورڈ نے ‘ون ونڈو آپریشن’ متعارف کروایا ہے، جس کے تحت تمام ضروری اجازت نامے اور کاروباری سہولیات ایک ہی جگہ سے فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض منصوبوں پر عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے، جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کو تقویت دیں گے۔ بلال خان کاکڑ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان حکومت BBOIT کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی تاکہ صوبہ ایک پائیدار، خوشحال اور معاشی طور پر خود کفیل خطہ بن سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اب معاشی ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے، جہاں نجی شعبے کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5310/2025
کوئٹہ 30جولائی :۔صوبائی مشیر محکمہ لیبر اینڈ مین پاور سردار بابا غلام رسول عمرانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں۔ ان کی فلاح و بہبود اور روزگار کی فراہمی کے لیے محکمہ لیبر اینڈ مین پاور بھرپور اقدامات کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی مشیر محکمہ لیبر اینڈ مین پاور سردار بابا غلام رسول عمرانی نے صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صوبے کی ترقی و خوشحالی، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے، فنی تربیت کے فروغ اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سردار بابا غلام رسول عمرانی نے کہا کہ ہم جدید فنی تعلیم و تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو ہنر مند بنا رہے ہیں تاکہ وہ ملکی و بین الاقوامی مارکیٹ میں بہتر روزگار حاصل کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف منصوبے زیر غور ہیں جن میں صنعتی تربیتی مراکز کی اپ گریڈیشن، غیر رسمی شعبے میں مہارت رکھنے والے افراد کی اسناد کاری اور نجی شعبے کے ساتھ اشتراک شامل ہے۔ صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے مشیر لیبر اینڈ مین پاور کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بابا غلام رسول عمرانی کی قیادت میں محکمہ نوجوانوں کے لیے قابل قدر اقدامات کر رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ان کوششوں سے صوبے میں بے روزگاری میں خاطر خواہ کمی آئے گی اور نوجوان ایک مثبت سمت میں گامزن ہوں گے۔ ملاقات میں دونوں رہنماو¿ں نے بلوچستان کی ترقی کے لیے بین المحکماتی تعاون کو مزید مو¿ثر بناکر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5311/2025
کوئٹہ 30 جولائی:۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کیپٹن (ر) مہراللہ بادینی نے آج ضلعی سطح پر معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم تقریب میں شرکت کی، جس میں نجی کنسٹرکشن کمپنی کے تعاون سے معذور افراد اور خواتین میں ویل چیئرز اور سلائی مشینیں تقسیم کی گئیں۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد وقار کاکڑ، نجی کنسٹرکشن کمپنی کے مالک اور صدر حقوق معذوران بلوچستان عثمان قریشی بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے معذور خواتین کو سلائی مشینیں اور معذور افراد کو ویل چیئرز فراہم کیں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معذور افراد معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ضلعی انتظامیہ ان کی بھرپور معاونت کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی آفس کوئٹہ میں معذور افراد کے لیے خصوصی رسائی کا راستہ بنایا جارہا ہے تاکہ انہیں دفتر آمدورفت میں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔معاشرے کے دیگر فلاحی ادارے اور افراد بھی معذور افراد کی معاونت کے لیے آگے آئیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5312/2025
لورالائی30جولائی :۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھاآفیس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر حلیم اتمانخیل کے چارج سنبھالنے کے بعد تقریب منعقد ہوئی جسکے مہمان خصوصی اے ڈی سی نور علی کاکڑ تھے جبکہ فرزند ایم پی اے و فوکل پرسن اجمل خان اتمانخیل نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ تقریب میں پیرا میڈیکس ڈاکٹرز ایس او محمد عثمان۔اے ایس وی عادل الیاس ،ڈاکٹر طارق محمود ،ڈاکٹر فہیم اتمانخیل ،ویکسینیٹرز نے شرکت کی۔تقریب سے کیشیر سردار محمد درانی ,عادل الیاس ،محمد عثمان نے بھی خطاب کیا۔جبکہ اے ڈی سی نور علی کاکڑ اور ڈی ایچ او ڈاکٹر حلیم اتمانخیل نے خطاب کرتے ہویے کہا ہے کہ آج کے دن خوشی کے ساتھ ساتھ زمہ داری ،احساس اور خدمت کا بھی دن ہے اور ہم سب کو مل کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے ضلع میں اپنے استعداد کے مطابق خدمت کرینگے عوام ملک اور قوم کا خدمت ایک جزبے ایک ولولے اور فرض سمجھ کر اپنا حق ادا کرینگے اور مکمل ٹیم ورک کے تحت اپنے اپنے حصے کے کام کرینگے۔اور انکے ساتھ ساتھ حقوق اور فرائض دونوں کا خیال رکھینگے۔یہ ضلع ہمارا ہے عوام کا ہم سے بہت سے تواقعات ہے ہم عوام کے سوچ و فکر کو انشائ اللہ مل جل کر انکے خیال رکھینگے اور انکے دہلیز پر انکو صحت کے سہولیات پہنچائینگے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5313/2025
تربت 30 جولائی:۔ ڈپٹی چیئرمین ضلع کونسل کیچ باہڈ جمیل دشتی کی قیادت میں ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ سے ملاقات کی، جس میں تحصیل دشت کے یونین چیئرمینوں اور روڈ اسکیموں سے وابستہ ٹھیکیداروں نے شرکت کی ملاقات میں دشت کے علاقوں میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی اسکیمات، خصوصاً سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر تبادلہ خیال ہوا۔ وفد نے انیہیں ترقیاتی امور میں درپیش مسائل سے آگاہ کیا ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ ترقیاتی فنڈز دستیاب ہیں اور عوامی ضروریات کے مطابق فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جاری منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں اور تمام چیئرمین و کونسلر اپنی تجاویز ڈی سی آفس میں جمع کرائیں انہوں نے شفافیت اور معیار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود ان منصوبوں کی نگرانی کریں گے، اور ترجیح ان اسکیمات کو دی جائے گی جو عوامی مفاد میں ہوں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿























