ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈورسے نے ایک نئی میسجنگ ایپ متعارف کروائی ہے جو بلیوٹوتھ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور واٹس ایپ کا متبادل قرار دی جا رہی ہے۔ یہ ایپ اب ایپل کے ایپ اسٹور پر دستیاب ہے۔
جیک ڈورسے کے مطابق یہ ایپ چند دنوں میں تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جو مکمل طور پر پرائیویسی، سیکیورٹی اور ڈی سینٹرلائزیشن پر مبنی ہو۔
مہینے کے شروع میں بیٹا ورژن کے اجرا کے موقع پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ اس ایپ کی رینج بلیوٹوتھ میش نیٹ ورکنگ کے ذریعے تقریباً 300 میٹر تک ہے، اور چونکہ اس میں کوئی مرکزی سرور استعمال نہیں ہوتا، اس لیے صارفین کا ڈیٹا ٹریک نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اکٹھا کیا جائے گا۔
اس نئی ایپ کے وائٹ پیپر میں بتایا گیا ہے کہ یہ مکمل انکرپٹڈ اور ڈی سینٹرلائزڈ سروس فراہم کرتی ہے، اور صارفین کو اس کے استعمال کے لیے کسی ای میل، فون نمبر یا اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں پڑتی۔
وائٹ پیپر میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ “بٹ چیٹ” نجی اور محفوظ رابطے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، جو کسی مرکزی نظام پر انحصار کیے بغیر کام کرتی ہے۔























