بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) نے لیبیا کے قریب بحیرہ روم میں کشتی ڈوبنے کے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، جس میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے۔
ادارے کے ترجمان کے مطابق، اس سانحے میں بچ جانے والوں سے ہمدردی اور ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے تعزیت کی گئی ہے۔ ترجمان نے اس واقعے کو اُن شدید خطرات کی ایک اور مثال قرار دیا جو ہزاروں افراد بہتر زندگی اور تحفظ کی تلاش میں درپیش خطرناک سفر اختیار کرتے وقت جھیلتے ہیں۔
لیبیا کو اکثر تارکین وطن اور پناہ کے متلاشی افراد یورپ تک پہنچنے کے لیے ایک اہم راستہ سمجھتے ہیں۔ تاہم، یہ راستہ ان کے لیے استحصال، تشدد اور موت جیسے خطرات سے بھرا ہوتا ہے۔
حادثہ لیبیا کے شہر طبروک کے قریب سمندر میں پیش آیا، جہاں کشتی اُلٹنے سے 50 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ اب تک صرف 10 افراد کو زندہ بچایا جا سکا ہے۔
آئی او ایم کی لیبیا میں موجود ٹیمیں مقامی اداروں کے ساتھ مل کر بچ جانے والوں کی مدد کے لیے سرگرم ہیں، اور کوشش کی جا رہی ہے کہ متاثرین کو فوری طبی اور انسانی امداد فراہم کی جائے۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مہاجرت کو محفوظ، منظم اور باوقار بنانے کے لیے علاقائی سطح پر مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی مہاجرت کو روکنے کے لیے کوششیں تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آئی او ایم کا تلاش و امداد پروگرام لیبیا میں سمندر اور صحراؤں میں پھنسے تارکین وطن کو بچانے، ہنگامی امداد دینے اور ان کی مشکلات کم کرنے پر کام کر رہا ہے۔ دیگر امدادی تنظیموں کو بھی ضروری آلات اور وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
آئی او ایم کی رپورٹ کے مطابق، 2014 سے اب تک دنیا بھر میں 75,000 سے زائد مہاجرین ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 39,000 سے زیادہ اموات ان ممالک میں ہوئیں جہاں پہلے ہی بحران جاری تھے۔ یہ اعداد و شمار مہاجرت، غیر یقینی حالات، اور محفوظ راستوں کی عدم دستیابی کے درمیان گہرے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔
ادارے نے زور دیا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مزید انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ بڑھتا جائے گا۔























