پی ایس ایل کی وہ 2 ٹیمیں جو کہیں بھی جاسکتی ہیں

چھ ٹیمیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر اتنی تگڑی نظر نہیں آ رہی ہوتیں لیکن مسلسل محنت کی بدولت نتائج آنے پر وہ وکٹری اسٹینڈ پر کھڑی ہوتی ہیں۔ اور اس پوری صورتحال میں آپ صرف سوچتے رہ جاتے ہیں کہ یہ آخر یہاں تک پہنچ کیسے گئی؟

اس مضمون میں آج ہم ایسی ہی 2 ٹیموں کا ذکر کریں گے جو کہیں بھی جاسکتی ہیں، جن کے بارے میں یہ پیش گوئی کرنا کسی بھی طور پر آسان نہیں کہ یہ فاتح ہوں گی یا سب سے ناکام ترین ٹیم۔
لاہور قلندر
لاہور کی ٹیم کا صرف نام ہی ’قلندر‘ نہیں، بلکہ یہ لوگ حقیقی معنوں میں بھی درویش ہیں۔ ہنستے مسکراتے اپنی معصومانہ حرکتوں سے دل جیتتے اور خوشیاں بانٹتے رانا فواد کو سارا پاکستان پسند کرتا ہے، اور اس پسند کیے جانے میں ان کی اس درویشانہ شخصیت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
ایسے شائقین کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو صرف رانا فواد صاحب سے محبت کی وجہ سے لاہور کی حمایت کرتے ہیں۔ لاہور قلندرز کے لیے اب تک پاکستان سپر لیگ کا سفر کسی بھی طور پر خوش کن نہیں رہا۔ پی ایس ایل میں اس کا سفر کس قدر بُرا رہا ہے اس لیے یہی جاننا کافی ہے کہ یہ ٹیم ہر ایک سیزن میں آخری 2 ٹیموں میں شامل رہی ہے۔

لیکن اس بار معاملہ مختلف نظر آ رہا ہے۔ پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ لاہور قلندرز آگے جائیں گے اور پلے آف میں باآسانی پہنچ جائیں گے۔

لاہور والوں کے ساتھ قسمت کا معاملہ بھی بڑا دلچسپ رہا ہے۔ ٹی20 کرکٹ کے بے تاج بادشاہ کرس گیل ان کے لیے کھیلے تو ان کا بلّا رنز اگلنا بھول گیا۔ پھر برینڈن میکولم آئے تو انہیں دیکھ کر بھی ایسا لگا جیسے وہ کرکٹ کھیلنا ہی بھول گئے۔ حتٰی کہ ٹی20 کرکٹ کے ایک اور ماہر اے بی ڈی ویلیرز بھی ان کے لیے کچھ نا کرسکے۔ پھر محمد حفیظ جیسا کہنہ مشق پہلے ہی ہفتے میں چوٹ لگوا کر باہر بیٹھ گیا۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قلندروں پر سپر لیگ کے دنوں میں زندگی کبھی مہربان نہیں رہی۔
اسلام آباد یونائیٹڈ
اسلام آباد یونائیٹڈ پاکستان سپر لیگ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے۔ اس ٹیم نے 2 بار لیگ ٹرافی اٹھا رکھی ہے۔ اسلام آباد نے اپنی مستقل مزاجی سے سب کو حیران کر رکھا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ان کی ظاہری چکاچوند بہت زیادہ نہیں ہے۔

اس ٹیم میں بڑے بڑے سپر اسٹارز تو نہیں ہیں، مگر اس کے باوجود یہ ایک متوازن ٹیم ہے۔ اسلام آباد کی حیران کن پیش رفت پر جب نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں جو سب سے اہم نکتہ نظر آتا ہے وہ ان کی تزویراتی کارکردگی کا بے مثال ہونا ہے۔

حسن چیمہ اور ریحان خان کی صورت اسلام آباد کو دورِ حاضر کی کرکٹ سمجھنے والے 2 بہترین دماغ ملے ہیں۔ دوسری ٹیموں کی طرح اسلام آباد نے بابے نہیں رکھے بلکہ اس میں نیا خون ہے جسے کھیل کی جدت آمیزی میں لپٹی ہوئی سائنس پر عبور کا ملکہ حاصل ہے۔ یہی اسلام آباد کا سب سے بڑا پلس پوائنٹ ہے۔ اس بار شاداب خان کو کپتانی دی گئی ہے تو جارحیت بھی عقل کے ساتھ شامل ہوگئی ہے۔ سو میدان سجنے سے پہلے جتنے بھی نفسیاتی معرکے ہوتے ہیں ان میں اسلام آباد آگے نظر آتا ہے۔
اگر ذرا سا غور کیا جائے تو ہمارے سامنے یہ راز آشکار ہوتا ہے کہ اسلام یونائیٹڈ نے زیادہ تر بیٹسمین غیر ملکی منتخب کیے ہیں، کیونکہ اس شعبے میں وہ ہم سے آگے بھی ہیں اور زیادہ قابلِ بھروسہ بھی، لیکن اگر باؤلنگ کا ذکر کریں تو تقریباً سارے ہی باؤلرز پاکستانی ہیں، کہ اس شعبے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔

ایک اسٹریٹ اسمارٹ نوجوان ٹیم جو کاغذ پر اتنی عمدہ نظر نہیں آتی، وہ گزشتہ چاروں سیزنز میں تو سرپرائز دیتی آرہی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ نئے کپتان اور نئے کوچ کے بعد بھی اس کی کارکردگی پہلے جیسی رہتی ہے یا اس میں فرق آجائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں