دو بھٹو، ایک وراثت – بلاول اور جونیئر ذوالفقار علی بھٹو میں سیاسی مقابلہ!!

نقطہ نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم اختر

پاکستان کی سیاست میں بھٹو نام ناصرف ایک خاندانی شناخت ہے بلکہ عوامی سیاست کی ایک ایسی پہچان جس سے جذبات، نظریات اور جدوجہد کی طویل داستانیں جڑی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے بے نظیر بھٹو اور اب بلاول بھٹو زرداری تک پیپلز پارٹی کی قیادت اسی خاندانی پس منظر سے پھلتی پھولتی رہی ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں ایک نیا سیاسی کردار ابھرتا دکھائی دے رہا ہے—جونیئر ذوالفقار علی بھٹو—جو نہ صرف بھٹو خاندان کا حصہ ہیں بلکہ اب وہ ایک نئی سیاسی جماعت کے اعلان کے ساتھ میدانِ سیاست میں قدم رکھ چکے ہیں۔
جونیئر ذوالفقار علی بھٹو جو بے نظیر بھٹو کے بھتیجے اور ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے ہیں، طویل عرصے سے سیاسی منظرنامے پر موجود تو رہے لیکن فعال سیاست سے دور تھے۔ ان کی حالیہ سرگرمیاں—عوامی جلسے، ٹی وی انٹرویوز، اور پیپلز پارٹی پر نظریاتی انحرافات کے الزامات—یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ صرف پس منظر کا کردار نہیں بلکہ اب وہ فرنٹ لائن پر آنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے اپنی جماعت کے قیام کا اعلان کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ پیپلز پارٹی صرف زرداری خاندان کی جاگیر نہیں بھٹو خاندان کا نظریاتی تسلسل ہے۔ ان کے نزدیک بلاول کی قیادت “اسٹیبلشمنٹ فرینڈلی” اور “روایتی مصلحت پسند سیاست” کی علامت بن چکی ہے۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ جونیئر بھٹو بلاول کے لیے فوری طور پر بڑا خطرہ بن سکتے ہیں کیونکہ بلاول کو تنظیمی ڈھانچے، جیالوں کی تاریخی وفاداریاں اور ملکی سطح پر اپنی شناخت کا فائدہ حاصل ہے۔ تاہم جونیئر بھٹو ایک نظریاتی متبادل کے طور پر ضرور ابھر سکتے ہیں پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے ماضی میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جو پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی نہ تھے مگر وہ نا صرف اقتدار کی مسند پر براجمان ہوئے بلکہ ملکی سیاست میں بھی اپنا کردار ادا کیا جونیئر ذوالفقار علی بھٹو اپنا ایک سیاسی منظرنامہ رکھتے ہیں ان کے والد شہید مرتضیٰ بھٹو اور ان کی والدہ غنوی بھٹو حوالہ بھی ان کے نام سے جڑا ہے جونیئر ذوالفقار علی بھٹو کے سادگی اور عام عوام میں ان کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا ،پینا ان کی عملی سیاست کے لیے نوید سحر بن سکتا ہے کاتب تقدیر میں کیا لکھا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے تاہم یہ بات ہوتے ہیں کہ آنے والا کل دونوں کزنز کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔