اسپیس ایکس نے قطبی مدار میں 24 جدید اسٹارلنک سیٹلائٹس بھیج کر شمالی اور جنوبی قطبوں میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، 26 اور 27 جولائی 2025 کی درمیانی شب فیلکن 9 راکٹ کے ذریعے ان سیٹلائٹس کو خلا میں روانہ کیا گیا تاکہ ان دور دراز علاقوں میں براڈبینڈ سہولیات کو وسعت دی جا سکے۔
کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ 2025 کے اختتام تک 400 سے زیادہ اضافی سیٹلائٹس قطبی مدار میں بھیجے جائیں گے، جس سے الاسکا، اسکینڈینیویا، انٹارکٹکا اور دیگر شمالی و جنوبی خطوں میں انٹرنیٹ کی رفتار اور دائرہ کار دُگنا ہو جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی اسپیس ایکس نے Fram2 مشن کی کامیاب تکمیل کا اعلان بھی کیا، جو کہ ایک نجی اور غیر سرکاری عملہ بردار مشن تھا۔ یہ مشن کریو ڈریگن کیپسو سے انجام دیا گیا اور پہلی مرتبہ کسی تجارتی مشن نے زمین کے دونوں قطبی خطوں سے گزرنے کا کارنامہ سرانجام دیا۔ اس سفر میں چار افراد شامل تھے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ قطبی علاقوں میں روایتی سیٹلائٹس کی کارکردگی محدود ہوتی ہے کیونکہ وہ وہاں بہتر سگنلز مہیا نہیں کر پاتے۔ تاہم، اسٹارلنک کے نچلی زمینی مدار والے سیٹلائٹس (لو ارتھ آربٹ) ان خطوں میں تیز تر، مستحکم اور کم تاخیر کے ساتھ انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔























