پنجاب کے کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال سنگین، ریسکیو آپریشن جاری

پنجاب بھر میں شدید بارشوں کے باعث متعدد دیہات سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ راولپنڈی کے علاقے اٹک میں جھاری کس کے مقام پر ایک گاڑی برساتی نالے میں بہہ گئی۔ ریسکیو اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 5 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، تاہم چار خواتین اور ایک بچے کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

پنجاب کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ کروڑ لعل عیسن اور کوٹ سلطان کے درجنوں دیہات پانی میں ڈوب گئے، جب کہ جہلم، پنڈ دادن خان، سوہاوہ سمیت کئی مقامات پر سیلابی ریلے بہنے لگے ہیں۔

نالہ بیئں میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس کے پیش نظر شکرگڑھ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ حسن ابدال میں بھی جھاری کس کے مقام پر سیلابی پانی نے ویگو ڈالا کو بہا لیا، جس میں سوار 10 افراد میں سے 5 کو بچا لیا گیا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق غوطہ خور اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ادھر دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث لیہ کے نشیبی علاقوں میں بھی صورتحال قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ چار لاکھ کیوسک کا ریلا بیس دیہات کو متاثر کر چکا ہے، جہاں مکانات، اسکول، ڈسپنسریاں، مساجد اور سڑکیں زیر آب آ گئی ہیں۔

زرعی نقصان بھی شدید ہے—کماد، چاول، کپاس اور تل جیسی فصلیں پانی میں بہہ گئیں۔ تونسہ پل کے قریب گائیڈڈ بند ٹوٹنے سے موضع سمرا میں سیلاب داخل ہو گیا، جس کے باعث 70 کلومیٹر کے علاقے کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔

جہلم میں بھی متعدد دیہات سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے، جہاں مال مویشی بہہ گئے اور 7 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ پنڈدادنخان، سوہاوہ اور قریبی علاقوں کی سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں، جب کہ متعدد پل اور حفاظتی بند بھی بہہ گئے ہیں۔

راجن پور میں تونسہ بیراج پر پانی کی سطح میں کمی آئی ہے، تاہم نالہ بیئں کا بہاؤ ابھی بھی تیزی سے جاری ہے، جس پر انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت نالے کے قریب جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

خورد، بھمبر، داراپور، دادووال، ڈھوک چٹی، جگتہ، سوہاوہ اور پی ڈی خان کے علاقے سیلاب سے بری طرح متاثر ہو چکے ہیں اور متاثرین کو ریلیف کی فوری ضرورت ہے۔