
راشد نور عزیز دوستوں میں سے تھے، آرٹس کونسل ان کی کتاب شائع کرے گا، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ
راشد نور کے جانے کا صدمہ بہت گہرا ہے، میرا ان سے صحافتی اور ادبی رشتہ تھا، فاضل جمیلی
احمد شاہ نے ایک ایسا ادارہ بنایا جو ادیبوں اور فنکاروں کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے، عنبریں حسیب عنبر
کراچی () آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف صحافی و شاعر راشد نور کی یاد میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیاگیا، تعزیتی اجلاس سے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، شاہد نور، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، مزدور رہنما منظور رضی، صحافی و شاعر اے ایچ خانزادہ، ادبی کمیٹی (شعروسخن) کی چیئرپرسن عنبریں حسیب عنبر، رخسانہ صبا، خالد معین اور ریحانہ روحی نے اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دیے، اجلاس میں اسپیشل ایونٹ کمیٹی کے چیئرمین اقبال لطیف، ڈاکٹر عالیہ امام، صحافی اطہر جاوید صوفی، ذیشان صدیقی سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز راشد نور کی زندگی پر بنائی گئی دستاویزی فلم سے کیاگیا، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج بہت تکلیف دہ وقت ہے، راشد نور ہم سب کے عزیز دوست تھے، ان کے اعزاز میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تقریبات ہوئیں، راشد نور کی کتاب کی تیاری پر کام چل رہا ہے، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کتاب مکمل ہونے پر شائع اور رونمائی کرے گی۔ راشد نور جلدی جلدی سب کام کر کے چلے گئے۔ مزدور رہنما منظور رضی نے کہاکہ راشد نور بہت عظیم انسان تھے، وہ ہر ایک سے مخلص رہے۔ شاہد نور نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ راشد نور روزنامہ ”نوائے وقت“ اور ”نئی روشنی“ میں لکھا کرتے تھے، انہوں نے صحافت اور شاعری میں بڑا نام کمایا، کچھ لوگوں کی جدائی ایسی ہوتی ہے جو دل سے نہیں جاتی راشد نور بھی ان میں سے ایک تھے، میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد سمیت آپ سب کا مشکور ہوں جنہوں نے میرے بھائی کو یاد رکھا۔ صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی نے کہاکہ راشد نور کے جانے کا صدمہ برداشت نہیں کرپا رہا جب اس بارے میں سوچتا ہوں گہرے صدمے میں چلا جاتا ہوں، راشد سے میرا تعلق صحافتی اور ادبی تھا، میری ان سے گفتگو اور بے تکلفی کبھی ختم نہیں ہوئی، انہوں نے امریکہ جانے سے قبل مجھے میسج پر کہا کہ اب میں کسی تقریب میں نہیں جاﺅں گا، قدرت نے انہیں تمام دوستوں سے ملنے کا موقع دیا۔ صحافی و شاعر اے ایچ خانزادہ نے کہاکہ راشد نور نے پوری جرأت کے ساتھ لکھتے اور بولتے تھے، جو کام راشد نے چھوڑا ہے اس کی تکمیل ضروری ہے، ہم راشد کی محبت اور غصے کا شکار رہے، شاعری کے حوالے سے دنیامیں ان کا ایک نام تھا، ہم آرٹس کونسل سے درخواست کرتے ہیں کہ راشد نور کی کتاب کا کام جو مکمل ہو چکا ہے اس کی اشاعت کو یقینی بنائیں۔ ادبی کمیٹی (شعر وسخن) کی چیئرپرسن عنبریں حسیب عنبر نے کہاکہ میرا راشد نور سے احترام کا تعلق تھا اگر میں راشد نور کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں نہ آتی تو آج خود کو معاف نہ کرپاتی، راشد نور نے تمام عمر جدو جہد کی، اب ان کے نام کو زندہ رکھنا ہمارا اخلاقی فرض ہے، راشد نور ہمیشہ دُکھ سُکھ میں ساتھ رہتے، میں اکثر سوچتی تھی کہ ہمیں کون یاد کرے گا مگر محمد احمد شاہ نے یہ احساس دلایا کہ آرٹس کونسل ایک ایسا ادارہ ہے جو ادیبوں اور فنکاروں کو ہمیشہ یاد رکھتا گا، راشد نور نے نئے آنے والوں کو راستہ ہموار کیا، ہم محمد احمد شاہ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے راشد نور کی کتاب شائع کرانے کی ذمہ داری لی۔ ادبی کمیٹی (فکشن) کی نائب چیئرپرسن ریحانہ روحی نے کہاکہ راشد نور بہت سادہ انسان تھے، کچھ دن پہلے آرٹس کونسل نے اسی ہال میں راشد نور کے اعزاز میں تقریب رکھی تھی، اس دن راشد نور بہت خوش تھے، شاعر وحید نور نے کہاکہ میں سمجھتا ہوں راشد نور جیسے کرداروں پر کام ہونا چاہیے کتاب میں ان کی خدمات کا ذکر کرنا چاہیے، راشد نور ان لوگوں میں سے تھے جو کراچی کی محفل میں جان ڈال دیتے۔ عابد رشید نے ویڈیو پیغام میں کہاکہ راشد نور کے کلام کو شکاگو میں بہت پذیرائی ملی، ان کا دنیا سے چلے جانا عالم ادب میں بہت بڑا خلا ہے، راشد نور مجسم ،گفتگو اخلاص اور مخلص دوست تھے۔























