
حیدرآباد، سندھ کے تعلیمی منظر نامے میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کا قیام ایک ایسا سنگ میل ہے جو خطے میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور تحقیق کے نئے افق کھولنے میں معاون ثابت ہوا۔ یہ صرف ایک ادارے کا قیام نہیں بلکہ صدیوں سے جاری تعلیمی جدوجہد، قربانیوں اور خوابوں کی تعبیر ہے۔ اس ادارے کی جڑیں حیدرآباد کی علمی، سماجی اور ثقافتی تاریخ سے گہری جڑی ہوئی ہیں۔
ایک تاریخی جائزہ کے مطابق
قیام پاکستان سے قبل حیدرآباد سندھ میں ہندو اور مسلم آبادی کی تعلیمی حیثیت میں نمایاں فرق تھا۔ اس دور میں ہندو برادری، تعلیمی میدان میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ آگے تھی۔ ہندو تاجر، بینکرز اور سرکاری ملازمین حیدرآباد میں معاشی طور پر مستحکم تھے، جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر زیادہ سرمایہ کاری کر سکتے تھے۔ انہوں نے جدید اور انگریزی تعلیم کی اہمیت کو سمجھا جو سرکاری ملازمتوں اور کاروباری ترقی کے لیے ضروری تھی۔ ہندو برادری نے اپنے وسائل سے کئی اسکول اور کالج قائم کیے، جیسے کہ ڈی جے سندھ کالج کراچی جس کی بنیاد میں حیدرآباد کے دیوان دیارام گدومل کا بھی کلیدی کردار تھا۔ حیدرآباد کے کئی نجی تعلیمی ادارے ان کی سرپرستی میں تھے۔
اس کے برعکس، اکثریتی مسلمان حیدرآباد کے مضافات کے دیہی علاقوں میں زراعت یا چھوٹے پیمانے کے پیشوں سے وابستہ تھے، جس کے باعث ان کے پاس بچوں کو جدید تعلیم دلانے کے لیے وسائل کی کمی تھی۔ مسلمانوں کی اکثریت دینی مدارس میں روایتی اسلامی تعلیم کو ترجیح دیتی تھی، اور جدید انگریزی تعلیم کو اپنانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی تھی۔ بعد ازاں، سر سید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ سے متاثر ہو کر آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے عمائدین نے حسن علی آفندی کے ذریعہ 1885 میں “سندھ مدرستہ الاسلام” کی سندھ میں بنیاد رکھی جسے بعد میں حکومت سندھ نے یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ حیدرآباد سندھ میں جاگیردارانہ نظام نے بھی تعلیم کے فروغ میں رکاوٹیں کھڑی کیں، جہاں وڈیروں کی ترجیحات میں تعلیم کو ثانوی حیثیت حاصل تھی۔
حیدرآباد کے ہندو طلباء کو بمبئی جانے کے لیے طویل اور تھکا دینے والی پریشانیوں کے علاوہ بمبئی میں رہائش، خوراک اور تعلیم جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لہذا، حیدرآباد سندھ میں ہندوؤں نے تعلیم کے فروغ کے لیے نمایاں کاوشیں کیں، جن سے بعد میں مسلمان گھرانوں کے بچوں نے بھی استفادہ حاصل کیا۔ ہندوؤں نے اپنے وسائل اور کاوشوں سے کئی تعلیمی ادارے قائم کیے جہاں ہندو تاجروں اور مخیر حضرات نے دل کھول کر ذہین طلباء کو اسکالرشپس فراہم کیں۔
دیوان دیارام گدومل ان میں سے ایک نمایاں شخصیت ہیں جو بطور پیشہ سیشن جج تھے اور عامل برادری کے ایک نام ور خدمت گزار کے نام سے جانے جاتے تھے۔ کے آر ملکانی اپنی کتاب “سندھ اسٹوری” میں لکھتے ہیں کہ دیارام گدومل کے ٹرسٹ نے ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا، جس سے ڈی جی نیشنل کالج (دیارام گدومل) حیدرآباد کی تعمیر ممکن ہوئی۔ اس ٹرسٹ نے ہندوستان بشمول سندھ میں ہندوؤں کے لیے کئی اسکولز اور کالجز قائم کیے۔ تھیوسوفیکل سوسائٹی نے بھی سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے دیارام گدومل ٹرسٹ کا ساتھ دیا اور اکتوبر 1917 میں سندھ نیشنل آرٹس کالج حیدرآباد کے قیام اور تعمیر کے لیے 20,000 روپے کی مدد کی۔ یہ کالج بعد میں ڈی جی نیشنل کالج حیدرآباد (D.G. National College Hyderabad) کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کالج کے لیے 64 ایکڑ زرعی زمین اس کے موجودہ مقام پر سیٹھ پرتاب رائے منگھر سنگھ نے عطیہ کی۔ دیارام گدومل نیشنل کالج میں ابتدا میں آرٹس کے مضامین پڑھائے گئے، اور 1927 میں مخلوط تعلیم کا آغاز ہوا۔ 1943 میں تاریخ، فلسفہ، معاشیات اور 1934 میں بی ایس سی پروگرام بھی شروع کیا گیا۔
1947
کے بعد ڈی جی نیشنل کالج حیدرآباد کے زیادہ تر ہندو ٹرسٹیز ہندوستان ہجرت کر گئے۔ حیدرآباد میں مسلمان مہاجرین کی آمد اور سندھ میں مسلمانوں کے صاحب اختیار ہونے سے ان کی دلچسپی اس تعلیمی ادارے سے ختم ہوتی نظر آئی۔ یوں ہندو سماج پرست اور تعلیم دان دیارام گدومل کی حیدرآباد کی تعلیمی و سماجی خدمات کا سنہری باب اپنے اختتام تک پہنچا۔
قیام پاکستان کے بعد 21 جون 1948 کو اسی تاریخی بلڈنگ میں “گورنمنٹ کالج حیدرآباد” کا جنم ہوا جس کا نام 9 اپریل 1949 کو تبدیل کرتے ہوئے سندھ نیشنل آرٹس کالج حیدرآباد کر دیا گیا۔ یوں دیارام گدومل ٹرسٹ کے تحت قائم یہ کالج حکومت سندھ کے محکمہ کالج ایجوکیشن کے زیر انتظام چلا گیا اور ایک ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسمنٹ آفیسر (DDO) / پرنسپل کے تحت چلایا جانے لگا۔ 1951 میں اس کالج کو اپ گریڈ کرتے ہوئے مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے بھی اجازت دے دی گئی۔
2018
سندھ اسمبلی نے ایک ایکٹ منظور کیا جس کے ذریعے 21 جون 1948 کو قائم ہونے والے “گورنمنٹ کالج حیدرآباد” کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (Government College University Hyderabad) کا درجہ دے کر اسے محکمہ بورڈ اور یونیورسٹی کی وزارت کے ماتحت کر دیا گیا اور اسے محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ کی عملداری سے نکال دیا گیا۔
یونیورسٹی کے لیے چونسٹھ 64 ایکڑ میں سے 22 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ
سرکاری ریکارڈ پر کی گئی جبکہ 100 ایکڑ زمین لطیف آباد گنجو ٹکر کے مقام پر علیحدہ سے تعمیرات کے لیے سندھ حکومت نے دی۔ تاہم، گورنمنٹ کی 44 ایکڑ زمین پر اب بھی سرکاری و غیر سرکاری
دعویدار قابض ہیں۔
بدقسمتی سے، گورنمنٹ کالج حیدرآباد ایک تاریخی علمی، ادبی اور ثقافتی ورثے کا اہم نشان رہا ہے اور کئی عظیم شخصیات کی علمی تربیت کا مرکز بھی رہا ہے۔ یہ کالج دہائیوں سے علم کے پیاسے طلباء کے لیے اپنے دروازے کھولے ہوئے ہے اور قوم کے مستقبل کے معمار تیار کرتا رہا ہے۔ یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اس تاریخی کالج کو بے رحمانہ طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے قیام کے بعد مختلف مواقع پر گورنمنٹ کالج حیدرآباد کی SNE (Sanctioned New Establishment) بجٹ بک میں ظاہر نہیں کی گئی جبکہ اس وقت 66 اساتذہ، 42 چھوٹے ملازم اور 1500 طلباء کالج میں موجود تھے۔
سابق ڈائریکٹر کالجز پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید چنڑ نے لیٹر نمبر DCEHRH (Admn) /2021 – 22/545 مورخہ 23-11-2021 کے تحت اس کالج کو قریبی گورنمنٹ زبیدہ گرلز کالج میں منتقل کرنے کی سفارش کی اور اس کی تائید میں ڈائریکٹر جنرل کالجز نے لیٹر نمبر DGCS/DI/44/2022 کراچی مورخہ 28-1-2022 محکمہ کالج ایجوکیشن کو مراسلہ لکھا۔ سابق سیکرٹری کالجز سید خالد حیدر شاہ نے کالج ہذا کو چلانے کے لیے خط و کتابت کی اور محکمہ فنانس سے آرڈر نمبر SO(GA) CED/K. MORI/HYD/2022 مورخہ 24-6-2022 کے مطابق 30 اساتذہ اور 20 چھوٹے ملازمین کے لیے 35,819,000 روپے کا بجٹ منظور کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس پروپوزل کے مطابق محکمہ کالج ایجوکیشن کو 21 جون 1948 کو قائم کردہ گورنمنٹ کالج حیدرآباد ڈی ڈی او کوڈ 728 سے اکتوبر 1917 میں قائم کردہ گدومل نیشنل کالج حیدرآباد ڈی ڈی او کوڈ 788 میں گورنمنٹ کالج موری کی منظور شدہ آسامیوں میں سے 50 آسامیوں کو منتقل کرنا تھا۔
محکمہ کالج ایجوکیشن کے تحت کالج ہذا میں گریڈ 20 کے آفیسر پروفیسر یعقوب چانڈیو کو اگست 2022 میں پروفیسر سلیم مغل صاحب کے بعد گورنمنٹ کالج حیدرآباد کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ گورنمنٹ کالج حیدرآباد کو یونیورسٹی کا درجہ دینے اور اس سے منسلک مسائل کا تعلق کسی بھی صورت میں سیاسی یا لسانی نہیں ہے۔ یہ خالصتاً ایک انتظامی، تعلیمی اور سماجی مسئلہ ہے جس کا مقصد حیدرآباد میں تعلیم کے معیار کو بلند کرنا اور طلباء کو اعلیٰ تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کی حیثیت کو تبدیل کرتے وقت اس کی تاریخ، اساتذہ، طلباء اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھنا ازحد ضروری ہے۔ نئے ادارے کا قیام بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن اس کی بنیاد پر موجودہ فعال اور تاریخی ادارے کو ختم کرنا یا اس کی اہمیت کو کم کرنا دانش مندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر حل تلاش کرنا چاہیے جو تعلیم کے فروغ اور تعلیمی ورثے کے تحفظ کو یقینی بنا سکے۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق، 27 جولائی 2025 کو جی سی یونیورسٹی حیدرآباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر امجد علی آرائیں نے گورنمنٹ کالج کالی موری حیدرآباد کی بندش یا منتقلی سے متعلق افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کالج نہ تو بند کیا جا رہا ہے اور نہ ہی کسی اور جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ موصوف نے کہا کہ یونیورسٹی ایکٹ 2018 گورنمنٹ کالج کالی موری حیدرآباد کے وجود اور فعالیت کی ضمانت دیتا ہے۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر سیکریٹری کالج ایجوکیشن سندھ جناب شہاب قمر انصاری سے ان کے دفتر میں ملاقات کر چکے ہیں، اس کے علاوہ آن لائن اجلاس بھی کیے گئے تاکہ کالج کی کارکردگی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پیر، 28 جولئی 2025 کو ریجنل ڈائریکٹر کالجز جناب مصطفیٰ کمال سے ان کے دفتر میں اس حوالے سے مزید مشاورت کے لیے ملاقات طے ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ گورنمنٹ کالج کالی موری حیدرآباد کالج ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سندھ کے آن لائن داخلہ پورٹل پر فعال ہے اور اس سال اب تک پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ گروپس میں 719 طلباء داخلہ حاصل کر چکے ہیں، جبکہ دیگر انٹرمیڈیٹ سطح پر داخلوں کا عمل بھی جاری ہے۔ وائس چانسلر کے مطابق تعلیمی سال 2025-26 کی کلاسز اگست میں طے شدہ شیڈول کے مطابق شروع ہوں گی۔ “الحمدللہ، تمام اسٹیک ہولڈرز اس کالج کے وجود اور فعالیت کے لیے یکسو اور متحد ہیں۔”
ہم ان تمام شخصیات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے حیدرآباد میں تعلیم کے فروغ کے لیے ان تھک کاوشیں کیں، چاہے وہ دیوان دیارام گدومل ہوں یا تھیوسوفیکل سوسائٹی کے اراکین، یا پھر قیام پاکستان کے بعد کے تعلیمی رہنما اور حکام۔ خاص طور پر، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کے قیام کے لیے کوششیں کرنے والے تمام افراد، اساتذہ، سماجی کارکنان، سرکاری حکام اور دانشور حضرات خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ان کی کاوشوں نے ایک نئے تعلیمی دور کی بنیاد رکھی ہے۔ اسی طرح، محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ کو بھی سراہنا چاہیے کہ اس نے طویل عرصے تک اس ادارے کو بہترین انداز میں چلایا اور آج بھی اس کی بقا اور فعالیت کے لیے کوشاں ہے۔ یہ یقیناً ان کی لگن اور محنت کا ثمر ہے کہ حیدرآباد میں تعلیمی ماحول پروان چڑھ رہا ہے۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کا قیام اور گورنمنٹ کالج حیدرآباد کا تسلسل دونوں ہی حیدرآباد کے لیے ایک عظیم تعلیمی سرمایہ ہیں۔ یہ علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کریں گے، تحقیق اور جدت کو فروغ دیں گے، اور نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کر کے انہیں قومی ترقی میں حصہ لینے کے قابل بنائیں گے۔ یہ ادارے نہ صرف تعلیمی خلا کو پر کریں گے بلکہ .
مقامی معیشت اور سماجی ترقی میں بھی کردار ادا کریں گے
پروفیسر آصف ظہوری
تعلیمی و سماجی شخصیت
حیدرآباد























