یہ بات واقعی حیران کن ہے کہ جب کوئی جہاز شدید حادثے کا شکار ہو کر مکمل تباہ ہو جاتا ہے، تب بھی بلیک باکس اکثر محفوظ رہ جاتا ہے۔
اس کی وجہ اس کا منفرد اور مضبوط ساخت ہے جسے خاص طور پر سخت حالات کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ بلیک باکس اتنا مضبوط کیسے بنتا ہے:
بلیک باکس اصل میں دو اہم ریکارڈنگ یونٹس پر مشتمل ہوتا ہے؛ ایک کوک پٹ وائس ریکارڈر، جو پائلٹ اور کنٹرولر کی بات چیت ریکارڈ کرتا ہے، اور دوسرا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، جو طیارے کی تکنیکی معلومات جمع کرتا ہے۔ یہ دونوں اکٹھے ایک مضبوط حفاظتی کیس میں رکھے جاتے ہیں۔
یہ کیس عام طور پر ٹائٹینیم یا اسٹینلیس اسٹیل سے بنایا جاتا ہے جو نہایت مضبوط اور گرمی برداشت کرنے والا ہوتا ہے۔
یہ باکس 1100 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی کو ایک گھنٹے تک سہہ سکتا ہے، اور آگ، کیمیکلز یا کیروسین سے متاثر نہیں ہوتا۔
یہ 3400 گرام فورس (g-force) تک کے شدید جھٹکوں کا مقابلہ کر سکتا ہے، جو کہ کسی بھی جہاز کے حادثے میں لگنے والے زوردار دھچکوں سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اگر جہاز سمندر میں گرتا ہے تو بلیک باکس 6000 میٹر (20 ہزار فٹ) کی گہرائی میں پانی کے دباؤ کو بھی برداشت کر لیتا ہے۔
مزید برآں، اس میں ایک ایسا نظام موجود ہوتا ہے جو زیر آب اس کی جگہ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ سسٹم 37.5 کلو ہرٹز کی آواز خارج کرتا ہے جو 30 دن تک مسلسل سگنل بھیجتا رہتا ہے تاکہ تلاش کرنے والے اسے آسانی سے ڈھونڈ سکیں۔
اسی مضبوط ڈیزائن اور جدید تکنیکی خصوصیات کی بدولت بلیک باکس حادثات کے بعد بھی محفوظ رہتا ہے اور تحقیقاتی ٹیموں کو حادثے کی وجوہات جاننے میں مدد دیتا ہے۔























