کراچی کے علاقے گلزار ہجری میں ڈکیتی کے ایک واقعے کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے ایک اور قیمتی جان ضائع ہو گئی۔ فائرنگ کا نشانہ بننے والا شخص کریم عمر کوٹ کا رہائشی تھا، جو کراچی میں ایک چائے کے ہوٹل پر کام کرتا تھا۔ وہ چار بچوں کا باپ اور گزشتہ تین سال سے مذکورہ ہوٹل میں ملازمت کر رہا تھا۔
پولیس کے مطابق دو موٹر سائیکل سوار ملزمان علاقے میں شہریوں کو لوٹ رہے تھے، جب فرار ہوتے وقت انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ گولیوں کی زد میں آ کر 36 سالہ کریم شدید زخمی ہوا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دونوں ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔ ان کے قبضے سے اسلحہ، موٹر سائیکل اور چھینا گیا سامان برآمد کر لیا گیا ہے، جب کہ گروہ کے دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔
ادھر گلشن اقبال میں ایک اور واقعے میں پولیس نے مشکوک افراد کو روکنے کی کوشش کی تو ملزمان نے فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں دونوں ملزمان زخمی ہو کر گرفتار کر لیے گئے۔ ان کے قبضے سے اسلحہ اور چھینے گئے چار موبائل فون برآمد ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ سال 2025 کے آغاز سے اب تک کراچی میں ڈکیتی کے دوران 54 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جو شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔























