راولپنڈی کے پوش علاقے ڈی ایچ اے فیز 5 میں سیلابی ریلے میں گاڑی سمیت بہہ جانے والی 25 سالہ لڑکی کی تلاش چھ دن بعد بھی کامیاب نہ ہو سکی، جس کے بعد ریسکیو آپریشن ختم کر دیا گیا ہے۔ لڑکی اپنے والد، پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل اسحاق قاضی کے ہمراہ 22 جولائی کو گاڑی میں نکلی تھی کہ اچانک شدید بارش کے بعد آنے والے ریلے میں بہہ گئی۔
ذرائع کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے دریائے سواں کے مختلف مقامات پر بھرپور کوششیں کیں۔ اس دوران بوٹ پٹرولنگ، غوطہ خوروں کے ذریعے زیرِ آب تلاش، میگنیٹک سرچ اور پیدل گشت جیسے تمام وسائل استعمال کیے گئے۔ تاہم، چھ روز تک جاری رہنے والی کوششوں کے باوجود لڑکی کی کوئی خبر نہیں ملی۔
رپورٹ کے مطابق، واقعے کے دوران ریٹائرڈ کرنل اسحاق قاضی کی لاش دریائے سواں کے کنارے سے مل چکی ہے جبکہ ان کی بیٹی تاحال لاپتہ ہے۔ واقعے کے وقت اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ چکے تھے، اور سیلابی پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے گاڑی بہہ گئی۔
ریسکیو حکام کے مطابق، پہلے ڈی ایچ اے کے نالے میں تلاش کی گئی، پھر دریائے سواں کے داخلی و خارجی راستوں پر سرچ آپریشن کیا گیا۔ دورانِ تلاش گاڑی کے بمپر، دروازے، اور دیگر حصے تو برآمد کر لیے گئے، تاہم گاڑی یا لڑکی کا سراغ نہ مل سکا۔
واقعے نے شہریوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے، اور اہلِ علاقہ نے انتظامیہ سے سیلابی علاقوں میں حفاظتی اقدامات مزید بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔























