چین کی میگ لیو (مقناطیسی لیویٹیشن) ٹرین نہ صرف دنیا کی جدید ترین بلکہ تیز ترین زمینی سواریوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی حیران کن رفتار اور منفرد ٹیکنالوجی نے اسے دنیا بھر میں ممتاز مقام دلایا ہے۔
غیر معمولی رفتار
میگ لیو ٹرین کی رفتار انسان کی عقل کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ چین کے شہر چِنگ ڈاؤ میں 2021 میں تیار کی گئی ایک پروٹوٹائپ ٹرین نے 620 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی، جوکہ اب تک کسی بھی زمینی سواری کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ رفتار ہے۔
یہ رفتار بعض ہوائی جہازوں کی پرواز کے آغاز (ٹیک آف) کی رفتار کے برابر ہے۔ مثال کے طور پر، بوئنگ 747 طیارہ تقریباً 290 سے 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے، جب کہ میگ لیو ٹرین اس سے کہیں زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہے۔
فعال سروس کی رفتار
فی الحال شنگھائی میں سروس میں شامل میگ لیو ٹرین 431 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے، جو محض 7.5 منٹ میں 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیتی ہے۔ مزید برآں، بیجنگ سے شنگھائی تک چلنے والی نئی میگ لیو لائن پر 600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کی گئی ہے، جس کی بدولت مسافر محض 3 گھنٹوں میں دونوں شہروں کے درمیان سفر کر سکتے ہیں۔
میگ لیو ٹرین کی ٹیکنالوجی
میگ لیو ٹرین ایک ایسی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جسے “مقناطیسی لیویٹیشن” کہا جاتا ہے۔ اس میں ٹرین کو پٹری سے چند ملی میٹر اوپر مقناطیسی قوت کے ذریعے معلق رکھا جاتا ہے۔ چونکہ رگڑ بالکل نہیں ہوتی، اس لیے ٹرین نہایت تیز رفتاری سے اور بہت کم شور کے ساتھ سفر کرتی ہے۔ اس کا سفر اتنا ہموار ہوتا ہے کہ مسافروں کو جھٹکے یا ہچکولے محسوس ہی نہیں ہوتے۔
مستقبل کی سواری
چین کی یہ کامیابی نہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک نیا معیار بھی قائم کر چکی ہے۔ میگ لیو ٹرینیں اب تیز، محفوظ، خاموش اور ماحول دوست سفر کا بہترین ذریعہ بن چکی ہیں۔























