قومی ایئر لائن پی آئی اے کی لاپروائی ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے، جب ایک خاتون مسافر نے عملے کی سنگین غفلت کا انکشاف کیا۔ خاتون کے مطابق، دورانِ پرواز بوئنگ 777 طیارے کے وینٹیلیشن سسٹم میں ان کا موبائل فون گر گیا، جو کئی دن تک وہیں پھنسا رہا، اور اس دوران طیارہ معمول کے مطابق پروازیں کرتا رہا۔
تفصیلات کے مطابق، 6 جولائی کو جدہ سے اسلام آباد آنے والی پرواز کے دوران ایک خاتون مسافر کا موبائل فون سیٹ کے نیچے موجود کھلے وینٹیلیشن سسٹم میں جا گرا۔ انہوں نے بتایا کہ موبائل کی بیٹری زیادہ گرم ہونے کی صورت میں دھماکے کا خدشہ تھا، جو 300 مسافروں کی جان کے لیے خطرہ بن سکتا تھا، مگر پی آئی اے عملہ مسلسل موبائل کی موجودگی سے انکاری رہا اور جہاز کو بروقت گراؤنڈ نہیں کیا گیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل موبائل فون کی لوکیشن پر نظر رکھ رہی تھیں، جو ظاہر کرتی تھی کہ فون جہاز کے ساتھ ہی سفر کر رہا ہے۔ 13 دنوں کے دوران متعدد پروازیں مکمل ہوئیں مگر موبائل کو نکالنے کے لیے کوئی فوری قدم نہیں اٹھایا گیا۔
اس حوالے سے پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے وضاحت دی کہ 19 جولائی کو طیارے کا فرش کھول کر موبائل برآمد کر کے مسافر کے حوالے کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز کی پروازیں پہلے سے طے شدہ تھیں، اس لیے تکنیکی عملے کو فوری طور پر فرش کھولنے کا موقع نہیں ملا، تاہم پی آئی اے انتظامیہ مسافر سے مسلسل رابطے میں رہی۔
یہ واقعہ ایئرلائن کی حفاظتی پالیسیوں اور مسافروں کی جان کے تحفظ پر کئی سوالات کھڑا کر گیا ہے، اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی کوتاہیوں سے بچنے کے لیے فوری اصلاحاتی اقدامات کیے جائیں۔























