شہزاد رائے سوات کے مدرسے میں جاں بحق طالبعلم کے لیے انصاف کی آواز بن گئے

معروف سماجی کارکن، گلوکار اور “زندگی ٹرسٹ” کے بانی شہزاد رائے سوات میں مدرسے کے ایک استاد کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے 14 سالہ طالبعلم فرحان کو انصاف دلانے کے لیے میدان میں آ گئے ہیں۔

اپنے ویڈیو پیغام میں شہزاد رائے نے واضح کیا کہ طلبہ پر تشدد کو جواز فراہم کرنے والا قانون “سیکشن 89” 2019 میں ختم ہو چکا ہے، اس لیے کسی بھی تعلیمی ادارے میں جسمانی سزا اب قانوناً جرم ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ فرحان پر ہونے والا وحشیانہ تشدد ناقابلِ معافی ہے اور مجرم کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔

شہزاد رائے نے والدین، طلبہ اور تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ بچوں پر تشدد کے خلاف آواز بلند کریں، اور اس قسم کے واقعات پر خاموشی اختیار نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے اور کسی بھی قسم کے تشدد پر فوری شکایت درج کروانی چاہیے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے ایک مدرسے میں استاد کے مبینہ تشدد سے فرحان نامی طالبعلم جان کی بازی ہار گیا تھا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔