پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے چناب اور جہلم سمیت ان سے منسلک ندی نالوں میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر وارننگ جاری کر دی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 28 سے 31 جولائی کے دوران دریاؤں میں پانی کی سطح غیر معمولی طور پر بلند ہونے کا خدشہ ہے، جس سے نچلے اور درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
اس سلسلے میں پی ڈی ایم اے نے راولپنڈی، گجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز کے کمشنرز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں جیسے گجرات، جہلم، منڈی بہاؤالدین، جھنگ، خوشاب، خانیوال، ملتان، کوٹ ادو، مظفرگڑھ، سیالکوٹ، حافظ آباد، چنیوٹ اور دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی پیشگی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے تمام متعلقہ اداروں بشمول مقامی حکومت، زراعت، آبپاشی، صحت، جنگلات، لائیو اسٹاک اور ٹرانسپورٹ کے حکام کو فوری طور پر تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات پیشگی مکمل کیے جائیں۔ فلڈ ریلیف کیمپس میں خوراک، پینے کے صاف پانی، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ دریاؤں کے کناروں پر آباد گھروں اور مویشیوں کی فوری منتقلی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
ریسکیو 1122 کی ایمرجنسی ٹیموں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ تمام اضلاع میں ایمرجنسی کنٹرول رومز کو فعال کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر مقامی انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، پی ڈی ایم اے نے مون سون سیزن کے پانچویں اسپیل کا الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سلسلہ 28 جولائی (پیر) سے شروع ہوگا اور 31 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ترجمان کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع بشمول مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، لاہور، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، سرگودھا، میانوالی، فیصل آباد اور اوکاڑہ میں بارش کی پیشگوئی ہے۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع جیسے ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بھکر، خانیوال، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ اور راجن پور میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے۔
ریلیف کمشنر نے متنبہ کیا ہے کہ رواں برس مون سون بارشیں گزشتہ سال کے مقابلے میں 73 فیصد زیادہ ہو چکی ہیں، جس سے لینڈسلائیڈنگ جیسی خطرناک صورتحال بالخصوص مری اور گلیات میں پیدا ہو سکتی ہے۔ تمام اداروں کو چوکنا رہنے اور عوام کو لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے باخبر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔























