گورنر ہاؤس : ایکسل ویٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کا اجلاس

گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جانب سے گورنر ہاؤس میں ایکسل ویٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کا اجلاس منعقد اجلاس میں ملک شہزاد اعوان اپنے وفد کے ہمراہ شریک۔ اجلاس میں آئی جی موٹروے اے ڈی خواجہ ڈپٹی سیکرٹری مواصلات،سیکرٹری پورٹ اینڈ شپنگ،چیئرمین پورٹ قاسم،چیئرمین این ایچ اے اور روڈ ڈائرکٹر شریک۔ ٹرانسپورٹرز وفد میں ملک شبر, نثار جعفری,رانا اسلم,یاسین نیازی, اویس چوہدری, چوہدری قمر,ملک شیرخان, ناظم دین بردی,غلام آفریدی,امداد نقوی,ملک فرید,مرتضی علی,حاجی یوسف اور عبدالماجد شامل۔ اجلاس میں ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے لیے اہم فیصلے کیے گئے، 17 فروری سے ایکسل ویٹ کے قانون پر مکمل پابندی کا فیصلہ کرلیا گیا۔ملک شہزاد اعوان۔ اجلاس میں ایکسل ویٹ کے قانون پر عمل درآمد کو آسان کرنے کے لیے 2 ماہ کی نرمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ملک شہزاد اعوان۔ 15 اپریل تک ایکسل ویٹ پر مقرر کردہ وزن سے 15 فیصد زیادہ وزن لے جانے کی اجازت ہوگی۔ملک شہزاد اعوان۔ اس دوران 15 فیصد سے زیادہ وزن جس گاڑی میں ہوگا اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی اور بھاری جرمانے کے ساتھ گاڑی کو کانٹے سے واپس کردیا جائے گا۔ملک شہزاد اعوان۔ 15فیصد اضافی وزن صرف 2مہینے کیلئے ہے ۔ 15 اپریل کے بعد ایکسل ویٹ کے قانون میں مقرر کردہ وزن ہی لے جا سکتے ہیں۔ملک شہزاد اعوان۔ گورنر سندھ نے ٹرانسپورٹرز سے جو وعدے کیے تھے انہوں نے وہ وعدے پورے کردیے۔ملک شہزاد اعوان۔ پورے پاکستان میں کانٹوں کو فعال کردیا جائے گا،ڈرائیونگ لائسنس میں آسانی بھی پیدا کی جائے گی۔ملک شہزاد اعوان۔ آج ٹرانسپورٹرز کے لیے بہت اہم دن ہے، تمام ٹرانسپورٹرز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ملک شہزاد اعوان۔ ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہوں، ایکسل ویٹ کے قانون پر عمل درآمد کروانا آسان عمل نہیں تھا۔ملک شہزاد اعوان۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں