میں بحثیت وزیر تعلیم اکیلا کچھ نہیں کرسکتا، مجھے افسران، اساتذہ، طلبا کی ضرورت ہے وہ میری معاونت کریں : وزیر محنت و تعلیم سندھ سعید غنی

کراچی : وزیر محنت و تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ میں بحثیت وزیر تعلیم اکیلا کچھ نہیں کرسکتا،مجھے افسران، اساتذہ، طلبا کی ضرورت ہے وہ میری معاونت کریں۔سندھ حکومت نے صوبے بھر کے کالجز میں اسکولوں کی طرح صبح ساڑھے 8 بجے اسمبلی لازمی قرار دی ہے اور میں خود بھی روزانہ کسی نہ کسی ایک کالج میں اسمبلی میں شرکت کروں گا۔ اگر مجھے آج کوئی آپشن دے کہ زندگی کے کس پہر میں جانا چاہو گے تو میں کالج واپس جانا چاہو گا۔ کیونکہ کالج کے 4 سال کسی بھی انسان کی زندگی کے سب سے بہتر سال ہوتے ہیں۔مجھ سے پہلے وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے اچھا کام کیا ہے، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ چیلنجنگ ہے۔کسی بھی ڈپارٹمنٹ میں تبدیلی لانی ہوتی ہے تو مجھے دے دیتے ہیں۔ صوبے میں اس وقت 327 کالجز میں 3 لاکھ، 57 ہزار، ایک سو اکسٹھ طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں، جس میں سے صرف کراچی کے 147 کالجز میں ایک لاکھ، 98 ہزار، 975 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کی صبح 8-30 بجے گورنمنٹ کالج برائے کامرس اینڈ اکنامکس کی اسمبلی میں شرکت اور بعد ازاں طلبہ و طالبات سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اور بعد ازاں ان کی صدارت میں ڈائریکٹوریٹ کالجز کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری کالج ایجوکیشن رفیق احمد بھڑورو، ڈی جی کالجز، ڈائریکٹر کالج ایجوکیشن کراچی، پرنسپل گورنمنٹ کالج کامرس اینڈ اکنامکس، سنئیر اساتذہ کرام بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ یہ میرا اپنا کالج ہے اور میری روح اس کالج سے وابسطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری عادت ہے جو بھی ڈپارٹمنٹ جوائن کرتا ہوں پہلے دن سے ہی کام کا آغاز کرتا ہوں، مگر تعلیم پہلا ڈپارٹمنٹ ہے جہاں کام کرنے کے لیے پہلے قدم کے لیے ایک ہفتہ لیا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میں اس کالج سے اپنے کام کا آغاز کروں، جہاں میں نے تعلیم حاصل کی ہے اور آج میں اس بات سے خوش ہوں کہ میں اس کالج میں اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ یہاں آیا ہوں۔

اس موقع پر صوبائی وزیر جب ڈائس پر خطاب کے لئے آئے تو اشک بار ہوگئے اور ان کی اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے کالج کے سنئیر اساتذہ کرام اور صوبائی وزیر کے کالج کے دور کے ساتھیوں نے انہیں دلاسہ دیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ میں آج اپنی خوشی کا اظہار نہیں کرسکتا کہ جس تعلیم گاہ سے میں نے تعلیم حاصل کی ہے اور جن اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کرکے اس مقام پر پہنچا ہوں آج اسی درس گاہ میں انہی اساتذہ کرام کے ساتھ کھڑے ہوکر بحثیت وزیر تعلیم خطاب کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں کالج کے طلباء سے وعدہ کرتا ہوں کہ‘تعلیمی مسائل ہیں مگر اس کالج کو کم عرصہ میں مثالی کالج بناکر دکھاؤں گا‘۔سعید غنی نے طلہ اور طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت عام فیملی سے ہوں، میرے والد غریب آدمی تھے۔میرے دادا دادی ان پڑھ تھے قلم پکڑنا نہیں آتا تھا، مزدوری کرتے تھے اور کبھی کبھی فاقہ بھی ہوتا تھا انہوں نے میرے والد کو پڑھایا اور ان کو بینک میں نوکری ملی۔ سعید غنی نے کہا کہ حالات یہ تھے کہ ابو کی فیس جو کہ کم تھی مگر انہیں پڑھانے کے لیے دادی نے اپنے کپڑے اور برتن تک بیچے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد کی بینک میں نوکری کے بعد ہمارے حالات کچھ بہتر ہوئے اور میرے والد نے ہمیں پڑھایا اور آج میں اس مقام پر ہوں۔ سعید غنی نے کہا کہ میں صرف یہ تمام باتیں ہمیشہ اس لئے کرتا ہوں کہ آج جو آپ تمام طلبہ اور طالبات یہاں موجود ہیں وہ بھی سعید غنی بن سکتے ہیں کیونکہ محنت اور لگن ہی انسان کو بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج میں جس مقام ہر ہوں اس میں میرے والدین کے ساتھ ساتھ میرے یہ اساتذہ ہیں، جنہوں نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا ہے اور مجھے آج اس کالج میں آکر فخر محسوس ہورہا ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ جالجز میں اسمبلی کی شروعات کہیں نہ کہیں سے ہونا ہے اور یہ روایت قائم کرنی ہے پہلے تھی اب ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزرات کا قلمدان سنبھالنے کے بعد پہلا اقدام یہی دیا ہے کہ کالجز میں اسمبلی پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیدسردار شاہ نے اچھا کام کیا ہے، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ چیلنجنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ڈپارٹمنٹ میں تبدیلی لانی ہوتی ہے تو مجھے دے دیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انفرااسٹرکچر کا مسئلہ ہے اسکول اور کالجز میں ہے اور اس کو حل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ان اسکولوں کو ماڈل اسکولز بنایا جارہا ہے، جہاں انرولمنٹ 80 فیصد سے زائد ہے تاکہ طلبہ اور طالبات کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مختلف اسکولوں کے دورے بھی کئے ہیں اور روزانہ کسی نہ کسی ایک اسکول یا کالج میں جاکر اسمبلی میں شامل ہوں گا اور میں نے سیکرٹری کالجز، ڈی جی کالجز سمیت تمام اعلیٰ افسران کو بھی ہدایات دی ہیں کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر صبح سویرے اسمبلیوں میں شریک ہوں اور اس کی رپورٹ بمعہ تصاویر اور ویڈیو کے مجھے ارسال کریں۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا ایک مقصد ہے، نظم و ضبط، متحد ہونا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ نصاب میں تبدیلی کی حمایت کرتا ہوں، میں ماہر تعلیم نہیں مگر ماہرین کی مدد سے نصاب پر بھی کام کریں گے۔ بعد ازاں وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی کی زیر صدارت ڈائریکٹوریٹ کالجز کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری کالج ایجوکیشن رفیق احمد بھڑورو، ڈی جی کالجز، ڈائریکٹر کالج ایجوکیشن کراچی سمیت دیگر اعلیٰ افسران موجود ہیں.اجلاس میں صوبے بھر کی کالجز، اس میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی تعداد، پرنسپلز، پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسرز، سمیت دیگر اسٹاف کی تعداد ان کی خالی اسامیوں سمیت دیگر امور سے صوبائی وزیر کو آگاہی فراہم کی گئی.اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں اس وقت 327 کالجز میں 3 لاکھ، 57 ہزار، ایک سو اکسٹھ طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔کراچی کے 147 کالجز میں ایک لاکھ، 98 ہزار، 975 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔صوبے میں 153 نجی کالجز ہیں، جن میں سے 138 کالجز کراچی میں ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کالجز میں فرنیچرز کی کمی کا سامنا ہے اور اس کو دور کرنے کے لیئے رواں مالی سال کے بجٹ میں 6 اسکیمز دی گئی ہیں۔ جبکہ صوبے کی 327 سرکاری کالجز کے لئے ایم اینڈ آر فنڈ صرف 225 ملین روپے ہے، جو کہ کالجز کی حالت زار کے مقابلے کم ہے اس میں اضافہ ناگزیر ہے، اس حوالے سے بھی سمری تیار کی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ تمام ڈائریکٹرز، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ افسران کالجز کا صبح ہی صبح اچانک دورہ کریں اور کالجز میں اساتذہ اور طلبہ کی حاضری اور اسمبلی کے انعقاد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری کالجز میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے اور مختلف کھیلوں کی ٹیموں کی تشکیل کو یقینی بنایا جائے اور صوبے بھر کی کالجز کے مابین انٹر کالجز اسپورٹس ٹورنامنٹ کا انعقاد کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ میں پرموشن سمیت اساتذہ کے دیگر مسائل کے حوالے سے رپورٹ جلد سے جلد مرتب کرکے دی جائے تاکہ اساتذہ کے مسائل کو ترجیعی بنیادوں پر حل کیا جاسکے۔ صوبائی وزیر نے صوبے بھر کی کالجز میں طلبہ و طالبات کی انرولمنٹ کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا اور سیکرٹری کالجز کو ہدایات دی کہ صوبے میں کالجز میں انرولمنٹ میں اضافے کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور جو طلبہ و طالبات صبح کے اوقات میں روزگار کے باعث اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے سے قاصر ہیں ان کے لیے کالجز میں خصوصی ایوینگ کلاسز کو شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں جہاں جہاں خالی اسامیاں ہیں ان کو پورا کرنے کے حوالے سے رپورٹ بنائی جائے اور گریڈ 1 تا 4 کے ملازمین کی علیحدہ جبکہ گریڈ 5 سے 15 کی اسامیوں کے لئے آئی بی اے کراچی اور سکھر کے تحت ٹیسٹ کے لئے انہیں بھیجا جائے جبکہ گریڈ 17 سے اوپر کی اسامیوں کے لئے پبلک سروس کمیشن کو لکھا جائے تاکہ ان اسامیوں کو جلد پورا کرکے درپیش مسائل سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں