ملتان کے سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی کمی نے مریضوں کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ضلعی انتظامیہ کی نااہلی اور ناقص نگرانی کے باعث اسپتالوں میں مفت ادویات دستیاب نہیں، جس کے نتیجے میں مریض مہنگے داموں ادویات بازار سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
صورتحال صرف ادویات تک محدود نہیں رہی، بلکہ شہری مختلف ٹیسٹ بھی نجی لیبارٹریز میں بھاری رقم ادا کر کے کروانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملتان کے بڑے سرکاری اسپتال، جن میں چلڈرن اسپتال، سول اسپتال، ڈی ایچ کیو، شہباز شریف جنرل اسپتال اور نشتر اسپتال شامل ہیں، وہاں متعدد ضروری ادویات ناپید ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر نشتر اسپتال کی ایمرجنسی میں مہنگے انجکشنز اور دیگر اہم ادویات مریضوں کو خود خریدنی پڑتی ہیں۔
کارڈیالوجی اسپتال کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں، جہاں مفت دوا حاصل کرنے کے لیے مریضوں کو گھنٹوں طویل قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے، مگر اکثر دوائیں دستیاب ہی نہیں ہوتیں۔
دور دراز علاقوں سے آئے مریضوں نے شکایت کی ہے کہ اگر سرکاری اسپتالوں میں بھی علاج کی سہولت میسر نہ ہو تو وہ کہاں جائیں؟ پرائیویٹ اسپتالوں کے اخراجات عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔
مریضوں اور ان کے اہل خانہ نے ضلعی انتظامیہ پر غفلت برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افسر صرف دفاتر میں بیٹھ کر حالات کو بہتر ظاہر کرتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور سرکاری اسپتالوں کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔























