راولپنڈی میں غیرت کے نام پر قتل کی سازش بے نقاب

راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی علاقے میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی سدرہ کے کیس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق سدرہ کی گمشدگی کے بعد تحقیقات میں پتہ چلا کہ اس کا خاوند ضیا الرحمان، والد عرب گل اور بھائی سمیت دیگر رشتہ دار اس کے خلاف سازش میں ملوث تھے۔ سدرہ پر الزام تھا کہ اس کا عثمان نامی لڑکے سے تعلق ہے، جس کے باعث ملزمان نے اسے مجبور کر کے 16 جولائی کو مظفرآباد میں جرگہ کیا اور پھر واپس راولپنڈی لے آئے۔

17
جولائی کو سدرہ کے خاوند، والد اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے جرگے میں فیصلہ سنایا کہ سدرہ جینے کا حق کھو چکی ہے، جس کے بعد اسے کمرے میں لے
جا کر گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔ قتل کے بعد خواتین نے غسل دیا اور جنازہ پڑھایا، جس کی قیادت عصمت اللہ نے کی۔ بعد میں ملزمان نے سدرہ کی لاش کو فوری طور پر قبر میں دفن کر کے قبر کے نشانات مٹا دیے۔

پولیس کو مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع ملنے پر تحقیقات شروع کی گئیں۔ ملزمان نے سی پی او راولپنڈی کو درخواست دے کر مقدمہ درج نہ کرنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے قبرستان کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی، جس میں سدرہ کی لاش اور ملزمان واضح طور پر دکھائی دیے۔

پولیس نے قبرستان کے گورکن ارشاد اور کمیٹی کے ممبر کو موقع پر گرفتار کیا، جس کے بعد سدرہ کے سسرال اور والدین کے اہل خانہ کو حراست میں لیا گیا۔ عدالت سے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کی اجازت حاصل کی گئی ہے، جس کی تاریخ 26 جولائی مقرر کی گئی ہے۔ پولیس نے مزید 10 افراد کو شامل تفتیش رکھا ہوا ہے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق عصمت اللہ، جو باڑہ مارکیٹ کا تاجر ہے، راولپنڈی کی سیاسی جماعتوں سے بھی قریبی تعلق رکھتا ہے اور اس کے خلاف ماضی میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے دوران مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ پولیس اس کیس میں مزید تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔