ہمیں 44 ممالک میں اپنے کاروبار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے: شاہ محمود

وزیر خارجہ نے کہا سرکلر ڈیٹ پہلے 38 ارب ماہانہ بڑھ رہا تھا اب 12 ارب پر آگیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ اسے صفر پر لے جائیں، ویلیو ایڈیشن پر ہم نے کوئی توجہ نہیں دی، اسپننگ میں جو کما رہا تھا بس اس نے اس میں سرمایہ کاری کی، ہمیں من حیث القوم اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا حکومت جیسے مرضی پالیسی بنالے جب تک کاروباری طبقہ بہتر نہیں ہوگا ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، فارن آفس میں نئی منڈیوں کی تلاش کے لیے ایک علیحدہ محکمہ قائم کیا گیا ہے، ہمیں 44 ممالک میں اپنے کاروبار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، نیروبی میں پاکستان میں ٹریڈ اور اکانومی کانفرنس کی، بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں کرائی گئیں، افریقا میں انجینئرنگ سیکٹر اور ٹریکٹر کی مارکیٹ ہے لیکن ہم نے کام نہیں کیا، جب بہت سے فیصلے معاشی نہیں سیاسی بنیادوں پر کریں تو نقصان ہوگا، سعودی عرب، امارات اور چین کے ساتھ سفارت کاری کے ذریعے اربوں ڈالر حاصل کیے۔

شاہ محمود نے کہا کہ چین کے ساتھ زرعی تحقیق میں معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، پاکستان سے سستی اشیا خرید سکتے ہیں، نئے ایف ٹی اے میں ٹیکسٹائل، چینی، آلو کی ایکسپورٹ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، چین کو کہا ہے کہ ہماری مدد کریں، بے روز گاری کے لیے قطر اور جاپان سے بات چیت کی ہے، پاکستانی ہی قطر کی گرمی میں تعمیرات کر سکتے ہیں، جاپان اور یورپ میں آبادی کم ہو رہی ہے، ہم ہنر مند افرادی قوت پیدا کر کے کم ہوتی آبادی کے ملکوں کو ایکسپورٹ کر سکتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا سی پیک میں توجہ توانائی پر تھی کیوں کہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ تھی، موجودہ حکومت نے سی پیک ٹو کا معاہدہ کیا، جس میں ٹیکنالوجی اور صنعتوں کی منتقلی کو شامل کیا گیا ہے، تین خصوصی زونز کی نشان دہی کی گئی ہے، جی ایس پی پلس کے حوالے سے بھی پوری لڑائی لڑی ہے، برطانیہ بریگزٹ کے بعد نئی منڈی کی تلاش میں ہے، برطانیہ نے پاکستان کے امن و امان کی تصدیق کی ہے، ایئرلائن کو بحال کیا اور ٹریول ایڈوائزری کو نرم کیا، ملائشیا میں جتنی آبادی ہے اتنا ہی سیاح آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں