
چند کمروں پے مشتمل سکڑ کے رہ جانے والا کالج، گورنمنٹ کالج حیدرآباد بھی اب ہاتھ سے گیا۔
علم کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیا گیا۔ گورنمنٹ کالج حیدرآباد، جسے کبھی “گورنمنٹ کالج کاری موری” بھی کہا جاتا تھا، اب نئے داخلوں کے حق سے محروم کر کے ہمیشہ کے لیے ماضی کا ایک ورق، ایک باب، ایک قصہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ وہ بے لوث چراغ تھا جس نے اپنی کوکھ سے ایک یونیورسٹی کو جنم دیا، ایک عظیم مشعل روشن کی۔ لیکن اس مشعل نے اتنی احسان فراموشی کی کہ نہ اس چراغ کو روشن رکھنے کے لیے کوئی لو دی، نہ تیل، بلکہ پھونک مار کر اسے بجھا دیا۔
گورنمنٹ کالج حیدرآباد کی بنیاد 1917ء میں دیارام گدومل جیسے مہذب اور انسان دوست شخص کی کاوشوں سے رکھی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت موجودہ سندھ میں صرف دو کالج تھے: ایک ڈی جے سائنس کالج اور دوسرا ڈی جی نیشنل کالج، جسے پاکستان بننے کے بعد گورنمنٹ کالج حیدرآباد (پھلیلی) کا نام دیا گیا۔ گونی ندی کے کنارے پر آباد یہ کالج، جسے آج کل “پراڻو ڦليلي واھ” کہا جاتا ہے، کو 62 ایکڑ زمین الاٹ ہوئی تھی، جو آہستہ آہستہ قبضہ مافیا کی نذر ہوتی چلی گئی۔ اب بچی کچی 22 ایکڑ زمین بھی تعصب پرست عناصر کے نشانے پر ہے۔

اتنی بڑی زمین کھو دینے کے بعد بھی یہ کالج اتنا وسیع تھا کہ خواب دیکھنے والوں نے یہاں یونیورسٹی بنانے کا خواب دیکھا۔ ایک طرف حیدرآباد کے شہری پہلے ہی ایک شہری یونیورسٹی کا مطالبہ کر رہے تھے، دوسری طرف سیاسی جماعتیں اس پر لسانی سیاست کر رہی تھیں۔ 2017ء میں جب یہ کالج اپنی 100 ویں سالگرہ منا رہا تھا، اس وقت کو استعمال کرتے ہوئے ایک سال کے عرصے میں ہی اسے یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ یہاں تک کی کہانی تو درست ہے، لیکن کالج کو بند کرکے یونیورسٹی قائم کرنا کہاں کا انصاف تھا؟ کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ کالج کو چلانے والے مرکزی کردار اتنی بڑی تاریخی غلطی کریں گے، تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کریں گے، اور ایک ادارہ تباہ کرکے دوسرا بنائیں گے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ایکٹ 2018ء میں سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا، اور اس میں ایسی شقیں شامل کی گئیں کہ تین چار مہینوں تک اس ایکٹ کو منظرعام پر ہی نہ لایا گیا، تاکہ کوئی اعتراض نہ کر سکے۔ تدریسی اور غیر تدریسی عملے سے اسٹامپ پیپر پر ایک حلف نامے کے ذریعے آپشن لیا گیا، اور اکثریت کو یونیورسٹی جوائن کرنے سے اس بنا پر روکا گیا کہ ابھی فنڈز کا کچھ پتہ نہیں، لہٰذا فیصلہ فوری لینا ہوگا۔ پسندیدہ اور منظور نظر افراد کو اپ گریڈ کر کے یونیورسٹی میں رکھ لیا گیا، جن کی تعداد 41 تھی، حالانکہ اس وقت 100 سے زائد اساتذہ وہاں کام کر رہے تھے۔

پھر جو کچھ ہوا، وہ نئی قائم شدہ یونیورسٹی کی قیادت اور ایک جعلی و خود ساختہ “الومنائی ایسوسی ایشن” کے ذریعے ہوا۔ یہ دراصل کالج کے سابق طلبہ کی ایک غیر رسمی باڈی تھی، لیکن اس نے خود کو یونیورسٹی کا الومنائی کہلوانا شروع کر دیا، حالانکہ اس وقت تک یونیورسٹی کا ایک بھی گریجویٹ موجود نہ تھا۔ یہ ایسوسی ایشن ایک بڑے اسٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آئی، اور اس کے چند اہم عہدیدار، اس وقت کے قائم مقام وائس چانسلر کے ساتھ مل کر کالج کو بند کروانے کی سازشوں میں لگ گئے۔

مثلاً، الومنائی کے افراد نے کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ فنڈز اپنے ہاتھ میں ہوں۔ انھوں نے کالج کا کاسٹ سینٹر بند کروانے کے لیے فنانس ڈیپارٹمنٹ کو لکھا، تاکہ کالج کے فنڈز یونیورسٹی کو منتقل ہو سکیں۔ پھر فرسٹ ایئر اور انٹرمیڈیٹ کلاسز کو چند کمروں میں محدود کرکے ہر ممکن انداز میں نظرانداز کیا گیا۔ جب کاسٹ سینٹر ہی بند ہو گیا، تو اگلے سال کے بجٹ میں کوئی فنڈز نہیں رکھے گئے۔ کالج کی SNE (سینکشنڈ نیو اسٹیبلشمنٹ) بھی ختم کر دی گئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہاں کسی کی بھی تقرری ممکن نہیں رہی۔
پسندیدہ افراد کو رکھ کر باقی لوگوں کے یا تو جبری تبادلے کیے گئے، یا انھیں خوفزدہ کر کے خود ہی تبادلہ کروانے پر مجبور کیا گیا۔ کچھ لوگ پروموشن لے کر منتقل ہوئے، کچھ ریٹائر ہو گئے۔ اب صرف تین اساتذہ باقی بچے ہیں، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں کی اگلی ڈی پی سی میں پروموشن ہونی ہے۔ یہ سب کچھ ایک “سلو پوائزن” تھا، جو آہستہ آہستہ اثر کرتا گیا۔ اگر ایک ہی وار میں کالج پر قبضہ کر لیا جاتا، تو شور مچتا، لوگ سامنے آتے، اور کالج کو بچانے کی کوشش کی جاتی۔ لیکن سامنے والے بڑے چالاک تھے۔ انہوں نے حالات ایسے بنا دیے کہ کالج آہستہ آہستہ ہاتھ سے نکلتا گیا اور کسی نے کوئی فریاد بھی نہ کی، کوئی آواز بھی نہ نکلی۔ اور وہ اپنے اطمینان میں خوش تھے کہ “چلو یونیورسٹی تو بن گئی”۔ لیکن جو ہم نے کھویا، اس کا کیا؟
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جتنا ممکن ہو، اس کالج کی بندش کی مذمت کی جائے، اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی جائے کہ اس کالج کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے۔ اس کے لیے والدین اٹھیں، نوجوان اٹھیں، اساتذہ آگے آئیں اور اس مسئلے کو اجاگر کریں۔ سول سوسائٹی اپنا کردار ادا کرے۔ میڈیا بھی اس کو اجاگر کرے، ورنہ اتنا بڑا نقصان ہو جائے گا جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ اگر یہ کالج ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، تو یہ ایک ناقابل تلافی سانحہ ہوگا۔























