
احمد چنوئی (ستارۂ امتیاز، ہلالِ امتیاز)
ڈائریکٹر – پاکستان اسٹاک ایکسچینج
چیئرمین – پاکستان کلاتھ مرچنٹس ایسوسی ایشن
⸻
شرحِ سود کو آئندہ مالیاتی پالیسی میں 6 فیصد تک لانے کا پُرزور مطالبہ
پاکستان کی معیشت اس وقت نازک موڑ پر ہے، اور موجودہ حالات میں ایک متوازن، ترقیاتی اور جرات مندانہ مالیاتی پالیسی ناگزیر ہو چکی ہے۔ میں اس موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی سے پُرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ آئندہ پالیسی اجلاس میں شرحِ سود کو 6 فیصد تک کم کیا جائے۔
افراطِ زر میں واضح کمی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری کے بعد اب وقت آ چکا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے سود کی شرح کو حقیقت پسندانہ سطح پر لایا جائے۔ موجودہ بلند شرحِ سود نے صنعتوں، ایکسپورٹرز، چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو شدید متاثر کیا ہے، جو مہنگے قرضوں اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات کے سبب بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
6 فیصد کی پالیسی ریٹ نہ صرف کاروباری طبقے کو سہولت دے گی بلکہ روزگار کے مواقع بڑھانے، پیداواری صلاحیت کو استعمال میں لانے اور معاشی پہیہ تیز کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ معیشت کو جمود سے نکالنے کے لیے فوری اور جرات مندانہ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ذمہ داری اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئندہ مالیاتی پالیسی میں سود کی شرح کو کم کرے تاکہ پاکستان کی معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہو اور عوام کو ریلیف میسر آئے۔























