کشمیریوں پر غاصبانہ بھارتی قبضہ

تنازعہ کشمیر ایک قدیم ترین تنازعہ ہے۔ مقبوضہ وادی کو بھارتی جبرو تسلط سے آزاد کروانے کیلئے کشمیری ہمت و حوصلے سے آزادی کی یہ جنگ لڑ رہے ہیں اور مزید کئی دہائیوں تک کشمیر کو بھارتی جبرسے آزاد کروانے کیلئے لڑنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کیلئے یہ امر لمحہ فکریہ ہے کہ نہتے کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم کے اعداد وشمار کے انکشاف کے بعد بھی بھارت کو مزید کارروائیوں سے روکنے میں یکسر ناکام ہے۔ سرسبز و شاداب وادی سْلگتے ہوئے چنار کا منظر پیش کررہی ہے۔ بے انتہا بھارتی ظلم و ستم کے باوجود کشمیری آزادی کے اس سفر میں بھرپور جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف پوری دنیا میں کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ یوم کشمیر صرف ایک دن نہیں تھا کہ جو گزر گیا بلکہ اْن جذبات کا تسلسل تھا جو کئی برسوں سے بھارت کے ظلم و جبر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح عزم و ہمت کا پیکر بنے حق کی جنگ لڑنے میں ایندھن میں تیل کا کام کررہے ہیں۔ بھارت نے گزشتہ برس 5اگست کو اپنے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے اس امر کا تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ جس وادی کا ذکر اکا دْکا اور کبھی کبھی یا پھر 5فروری کو دنیا کرتی ہے نا صرف زباں زدعام ہوگا بلکہ پوری دنیا میں بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگا۔ مودی سرکار کا جانبدرانہ پالیسیوں کے تحت مسئلہ کشمیر خطے کا اہم مسئلہ بن کر اْبھرا ہے۔ بھارت کی بنیاد پرست اور انتہا پسند حکومت نے پوری مقبوضہ وادی کو جیل نما کوٹھری میں تبدیل کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے جہاں دنیا بھر میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بات کی گئی چین نے بھی مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اسے پرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ نیز ملائیشیا بھی اس ضمن میں اپنے موقف پر قائم ہے۔ بلا خوف و تردید کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی موقف کی ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے حمایت کی۔ دنیا بھر میںکشمیر کے مسئلے پر بھارت کے خلاف نا صرف مظاہرے کیئے گئے بلکہ اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مسئلہ کو اقوام متحدہ کے چارٹر متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جب تک حل نا ہوجائے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ اس سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ جو بنیادی وجہ مسئلے کے حل میں رکاوٹ ہے اس کو کھل کر بیان کیا گیا کہ او آئی سی کمزور ہوچکی ہے۔ بلاشبہ او آئی سی گزشتہ کئی برسوں سے ایک غیر فعال ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر او آئی سی کا کردار انتہائی مایوس کن ہے۔ اہم امر یہ ہے کہ نا صرف کشمیر بلکہ فلسطین روہنگیا دیگر ممالک کے حوالے سے بھی او آئی سی کا کوئی قابل ذکر کردار نہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ تنظیم ایک کھوکھلا ڈھانچہ ثابت ہوئی ہے۔ کشمیری عوام مسلسل تشدد ظلم و جبر کے سائے میں بدترین تذلیل برداشت کررہے ہیں۔ بھارت نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کشمیری عوام کو مقبوضہ وادی جیل نما کوٹھڑی میں قید کررکھا ہے۔ اہم امر یہ ہے کہ مودی سرکار نے کشمیر کی معیشت کو کو تباہ کیا۔ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو نا صرف گرفتار کیا گیا بلکہ انہیں غائب کیا گیا اور جو نوجوان جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید ہیں انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بھارتی قابض افواج ایک نہتی قوم سے لڑرہی ہے جو درحقیقت تاریخ لکھ رہی ہے۔ آزادی کی اس جدوجہد میں ہزاروں کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ اس امر کی صداقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بھارتی حکومت کے کشمیریوں کیلئے ایجنڈے نے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا تاہم دوسری جانب حالات بھارت کیلئے انتہائی ناساز ہیں۔ ایک فاشسٹ حکومت کی غلط پالیسیوں نے نا صرف فرقہ واریت کو فروغ دیا بلکہ بھارت ٹکڑوں میں تقسیم ہوسکتا ہے۔ عالمی برادری کشمیریوں کی منظم نسل کشی روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔اس ضمن میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی خطے میں امن واستحکا م کے خلاف خطرناک طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ کشمیریوں کو قید کر کے اظہار رائے پر پابندی عائد کر کے زیادہ عرصہ خاموش نہیں رکھ سکتا کیوں کہ اب بات نکلی ہے تو بڑی دور تک جائے گی۔ پاکستان کشمیر کی آزادی تک بھارت کا اصل چہرہ عالمی سطح پر بے نقاب کرنے میں اہم کردار اد اکرتا رہے گا۔ اقوام متحدہ بھارت کو کشمیر کے بار ے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے پر مجبور کرے۔ بھارت طویل قید میں کشمیریوں کو رکھنے کے باوجود ان کے حوصلے و ہمت آزادی کے جذبے کو کم کرنے میں بری طرح سے ناکامی سے دوچار ہے۔ بھارت کا کشمیر پر قبضہ سراسر غاصبانہ و جارحانہ ہے۔کشمیری آزادی کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پاکستان نے تحریک آزادی کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ بھارت انتہاپسندی کے نظریہ پر عمل پیرا ہے۔ بھارتی ظلم کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو کمزور نہیں کر سکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں