راولپنڈی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں آنے والے اچانک سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے ریٹائرڈ کرنل اسحاق قاضی کی لاش بالآخر تلاش کر لی گئی۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق سابق فوجی افسر کی لاش دریائے سواں کے کنارے سے برآمد ہوئی ہے، تاہم ان کی 25 سالہ بیٹی اور گاڑی کا مکمل سراغ تاحال نہیں مل سکا۔ بیٹی کی تلاش کا کام مسلسل جاری ہے اور حکام کے مطابق سرچ آپریشن بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں شدید بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے تھے۔ اسی دوران 64 سالہ کرنل (ر) اسحاق قاضی اپنی بیٹی کے ہمراہ گاڑی میں گھر سے نکلے، مگر راستے میں گاڑی بند ہو گئی۔ اسی لمحے تیز بہاؤ والا ایک سیلابی ریلا آیا جس نے باپ بیٹی سمیت گاڑی کو بھی اپنے ساتھ بہا لیا۔ چشم دید افراد کے مطابق متاثرہ افراد مدد کے لیے آوازیں دیتے رہے، مگر پانی کا بہاؤ اتنا شدید تھا کہ کوئی مدد نہ پہنچ سکی۔
حادثے کے فوری بعد ریسکیو 1122، پولیس اور غوطہ خوروں پر مشتمل ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ابتدائی طور پر ڈی ایچ اے کے نالے کی مکمل تلاشی لی گئی، بعد ازاں سرچ آپریشن کو دریائے سواں کے اطراف تک توسیع دی گئی۔ ٹیموں کو پہلے گاڑی کا بمپر اور سائیڈ مرر ملے، پھر بونٹ اور ایک دروازہ بھی دریائے سواں کے پل کے نیچے سے برآمد ہوا۔
اب تصدیق ہو چکی ہے کہ کرنل اسحاق قاضی کی لاش بھی دریائے سواں کے قریب سے نکال لی گئی ہے۔ ان کی بیٹی کی تلاش بدستور جاری ہے، جبکہ حکام کو امید ہے کہ بارش کا سلسلہ رکنے اور پانی کی سطح میں کمی کے بعد سرچ آپریشن مکمل کیا جا سکے گا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر آج سرچ آپریشن کے دوران مزید پیش رفت متوقع ہے، اور گمشدہ لڑکی کا سراغ بھی جلد ملنے کی امید ہے۔























