بابوسر ٹاپ پر چند روز قبل پیش آنے والے سیلابی ریلے میں جاں بحق ہونے والی ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا تین سالہ بیٹا عبدالہادی تین دن تک لاپتا رہنے کے بعد مردہ حالت میں مل گیا۔ ڈاسر کے مقام پر مقامی افراد کو بچے کی لاش نظر آئی، جس پر حکام کو اطلاع دی گئی۔ گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے بچے کی لاش نالے سے نکال کر چلاس ہسپتال منتقل کی۔
عبدالہادی اپنی والدہ ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے ہمراہ تفریح کی غرض سے بابوسر گیا تھا، جہاں اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے ان کی گاڑی کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس حادثے میں ڈاکٹر مشعال اور ان کے دیور فہد اسلام موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ عبدالہادی لاپتا ہو گیا تھا۔ ریسکیو ٹیمیں کئی دنوں سے مسلسل تلاش میں مصروف تھیں۔
حادثے میں جاں بحق تمام افراد کی میتیں چلاس سے روانہ کر دی گئی ہیں جو آج دوپہر تک لودھراں پہنچ جائیں گی۔ شاہدہ اسلام میڈیکل کالج کی ڈائریکٹر ایڈمن کے مطابق نماز جنازہ شام ساڑھے پانچ بجے ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین آدم واہن کے قبرستان میں عمل میں آئے گی۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے میڈیا سے بات چیت میں تصدیق کی کہ شاہراہ بابوسر پر ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اب تک 6 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ دیگر لاپتا افراد کی تلاش کا عمل بدستور جاری ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ ڈاکٹر سعد کے 3 سالہ بیٹے کی لاش کو جلد آبائی شہر روانہ کر دیا جائے گا۔
متاثرہ خاندان کا تعلق لودھراں سے تھا، جو اسکردو سے واپسی کے دوران اس ہولناک قدرتی آفت کا شکار ہوا۔ حادثے کے عینی شاہد، جاں بحق فہد اسلام کے بیٹے نے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب پہاڑی کے نیچے پناہ لے رہے تھے کہ اچانک ایک زوردار ریلا آیا اور میرے والد، چچی مشعال اور کزن عبدالہادی اس میں بہہ گئے۔ والد نے بچانے کی کوشش کی، مگر سیلابی پانی سب کو بہا لے گیا۔























