موسمیاتی تبدیلی کے خطرات اور عالمی قیادت

اعتصام الحق
==========

ایک ایسے وقت میں جب دنیا موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہی ہے، تو عالمی قیادت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہو گئی ہے۔ شدید گرمی ، جنگلات میں لگنے والی آگ، سمندروں کی سطح میں اضافے اور خوراک کی عدم دستیابی جیسے مسائل نے عالمی سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی نظام کو کئی چیلنجز دے رکھے ہیں ۔ انہی خطرات کے پیش نظر “انٹرنیشنل کانفرنس آن کلائمٹ لیڈر شپ ۔2025” کو خاص اہمیت حاصل ہو ئی ہے۔یہ کانفرنس 21 تا 22 جولائی 2025 تک چین کے شہر ہاربن میں منعقد ہوئی ۔
یہ کانفرنس ہاربن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی کالج لندن کے اشتراک سے منعقد ہوئی جس کا مقصد حکومت ،صنعت ،تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی میں موسمیاتی قیادت کے تصور کو دوبارہ متعین کرنا تھا ۔اس کانفرنس محض ایک اجتماع نہیں تھا بلکہ اس میں ایک گہرا سوال اٹھایا گیا کہ آج کے دور میں مؤثر موسمیاتی قیادت کیا ہے؟کانفرنس میں جن کلیدی موضوعات پر گفتگو کی گئی ان میں موسمیاتی مالیات ،کم کاربن ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مالی وسائل تھے ۔اس کے علاوہ کم کاربن اختراعات کے ضمن میں ایسی جدید ٹیکنالوجیز کی نشاندہی کی گئی جو توانائی، نقل و حمل اور صنعت میں ماحولیاتی اثرات کو کم کریں۔مطابقت اور لچک کے حوالے سے ان طریقوں پر زور دیا گیا جو موسمیاتی آفات جیسے سیلاب، قحط اور بیماریوں کے خلاف معاشروں کو مضبوط بنائیں اور سماجی رویوں میں تبدیلی کے تناظر میں یہ سمجھا گیا کہ کس طرح افراد اور برادریوں کو پائیدار طرزِ زندگی اپنانے کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی پر بھی زور دیا گیا جو ماحولیاتی اصلاحات کو سماجی انصاف سے ہم آہنگ بنائیں۔
کانفرنس کی قیادت ہاربن انسٹی ٹیوٹ کی پروفیسر تاؤ ما اور یونیورسٹی کالج لندن کی پروفیسر ژیفو می نے کی ، جو ماحولیاتی معیشت اور پائیدار ترقی کے میدان میں عالمی شہرت یافتہ ہیں ۔یہ اور اس سے جڑی تمام سرگرمیاں ایک عالمی تصویر پیش کرتی ہیں کہ کس طرح مختلف سطحوں پر ماحولیاتی قیادت کے اصول تشکیل پا رہے ہیں ۔ کہیں حکومتیں قانون سازی کر رہی ہیں تو کہیں نوجوان اختراعی حل سامنے لا رہے ہیں۔
یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو ئی ہے جب دنیا کئی ماحولیاتی اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ موسمیاتی قیادت اب محض سائنسی یا تکنیکی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ معاشی بقا، سماجی انصاف، اور عالمی استحکام کا مسئلہ بن چکا ہے۔اسی لیے کانفرنس میں نہ صرف سائنسی تحقیقی کام کو سراہا گیا بلکہ اس کے عملی اثرات پر بھی زور دیا گیا ۔ اخلاقی پہلوؤں اور انسانی رویوں کو زیرِ بحث لا کر یہ کانفرنس موسمیاتی تبدیلی کو ایک انسانی مسئلہ بھی تصور کرتی ہے۔
چین میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں چینی قیادت نے کئی اقدامات متعارف کروائے اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی ترجیحات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنا ایک اہم ترجیح بن چکی ہے ۔خود چین کے صدر شی جن پھنگ کے اس نظریے نے تمام اقدامات کی قیادت کی ہے کہ صاف پانی اور سر سبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں اور ہمیں ان کی حفاظت کرنا ہے ۔چین نے کاربن اخراج میں کمی اور کاربن غیرجانبداری (کاربن نیوٹریلٹی) کے لیے ایک مضبوط پالیسی فریم ورک وضع کر لیا ہے، جس میں توانائی، صنعت، نقل و حمل، تجارت، تعمیرات اور دیگر شعبوں کے لیے مخصوص منصوبے شامل ہیں۔ چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق، جون 2025 کے آخر تک چین میں ونڈ پاور کی تنصیبی صلاحیت 570 ملین کلوواٹ تک پہنچ چکی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 22.7 فیصد زیادہ ہے۔ جبکہ سولر پاور کی صلاحیت 1.1 ارب کلوواٹ تک جا پہنچی ہے، جو گزشتہ سال سے 54.2 فیصد زیادہ ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات جیسے پانی کے وسائل کی تقسیم میں تبدیلی اور موسمی شدت میں اضافہ، معیشت اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کے چین میں اسسٹنٹ ریزیڈنٹ رپریزینٹیٹو ما چاؤدی نے کہی۔ ان حالات کے پیش نظر، چین کے کاربن اخراج میں کمی اور کاربن غیرجانبداری کے اہداف نے عالمی موسمیاتی حکمرانی کے لیے ایک راہنمائی فراہم کی ہے۔
ماحولولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں چین کی قائدانہ صلاحیتوں اور کوششوں کا اعتراف اب دنیا بھی کر رہی ہے ۔ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد کی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنا اور مختلف صنعتوں میں پیدا ہونے والی آلودگی سے نمٹنا اور معیشت کو رواں دواں رکھنا یقینا ایک مشکل ہدف ہے لیکن پالیسی پر مستقل عملدر آمد اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کا عزم چین کو اس سفر میں کامیاب کر رہاہے