پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ختم ہوتی جا رہی ہے

سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ختم ہوتی جا رہی ہے اور چینی بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سیاسی نہیں ہے اور چینی سیاسی ہے۔ جی این این کے خصوصی پروگرام” لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود” میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ڈاکٹرم شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شوگر ملز کیوں بنائی گئی ہیں، بیرون ملک سے چینی خریدی جاتی ہے وہ 45 روپے کلو میں خریدی جاتی ہے ۔جبکہ پاکستان میں اس وقت چینی 85 روپے فی کلو بیچی جا رہی ہے ،اور اس کی تیاری میں جو گن استعمال ہوتا ہے وہ بہت بڑی مقدار میں پانی پیتا ہے ،ملک میں پہلے ہی پانی کی قلت ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں ایکڑ پر کپاس کی پیداوار ہوتی تھی ،جس پر اب گنے کی پیداوار ہو رہی ہے جو بہت زیادہ پانی پیتا ہے ۔کپاس کی کمی کی وجہ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری بھی متاثر ہو رہی ہے ۔پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ختم ہوتی جا رہی ہے اور چینی بڑھتی جا رہی ہے ،کیونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سیاسی نہیں ہے مگر چینی سیاسی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں