پاکستان کو سعودی معیشت میں اپنا حصہ بڑھانے کی ضرورت ہے

پاکستان کو سعودی معیشت میں اپنا حصہ بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ خوردنی اشیا میں بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ سعودی مارکیٹ اکیس بلین ڈالر سے زائد کی غذائی مصنوعات کی درآمد کرتی ہے اور توقع ہے کہ آنے والے سالوں میں اس میں کئی گنا اضافہ ہوگا اور اس سے پاکستانی برآمد کنندگان کے مواقعوں میں اضافہ ھوگا ۔ یہ بات جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل خالد مجید نے جدہ میں پاکستانی سامان کے درآمد کنندگان سے ملاقات کے دوران کہی۔ اس ملاقات کا مقصد ان کے ساتھ بات چیت کرنا اور سعودی عرب میں پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے بارے میں ان کے خیالات کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا تھا۔ سعودی درآمد کنندگان اور ان کے پاکستانی نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔
خالد مجید نے مارکیٹ میں پاکستانی فوڈ پروڈکٹ کے درآمد کنندگان کو مشورہ دیا کہ وہ سعودی مارکیٹ میں اپنا حصہ میں اضافہ کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے درآمدی اشیاء میں بھی تنوع لانے کی ضرورت ہے کیونکہ خوردونوش کے علاوہ ٹیکسٹائل جیسے دیگر اشیاء کے لئے بھی سعودی عرب مسابقتی منڈی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہاں سعودی درآمد کنندگان کو اعتماد فراہم کرنے آئے ہیں اور اس سلسلے میں اگر انکو کوئی رکاوٹیں درپیش ہیں تو پاکستان قونصلیٹ انکی مدد کرنے کے لئے دستیاب ہے۔
انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں نے نے شعبہ سیاحت اور اس سے متعلقہ انڈسٹری کو کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ سرمایہ کار ان سیکٹرز میں سرمایہ کاری کر کے دونوں ممالک کو مزید قریب لاسکتے ہیں۔
خالد ماجد نے انڈسٹریل ایریا کے کچھ گوداموں کا بھی دورہ کیا جہاں پاکستانی درآمدی سامان سعودی مارکیٹ کے لئے سٹور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خدمات فراہم کرنے والوں کی کاوشوں کو سراہا۔ قونصل جنرل کے ہمراہ ڈی جی حج جناب ابرار اور کمرشل قونصلر جناب وحید شاہ بھی تھے

جدہ۔۔جیوے پاکستان رپورٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں