گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا ہے کہ بابوسر ٹاپ پر پھنسے ہوئے تمام سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ مقامی ہوٹل مالکان اور حکومت کی جانب سے ان سیاحوں کے لیے مفت قیام کا بندوبست کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شاہراہِ قراقرم ایک بار پھر دو مختلف مقامات سے بند ہو گئی ہے، جس کے باعث ہزاروں مسافر مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔ اس وقت شاہراہِ ریشم کو بشام تک بحال کرنے کے لیے کام تیزی سے جاری ہے۔
فیض اللہ فراق نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان آج بابوسر کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
ادھر ضلع دیامر میں شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے باعث لاپتا ہونے والے 15 افراد کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ گزشتہ روز 4 سیاحوں سمیت 5 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ 25 جولائی تک پہاڑی علاقوں کا سفر مؤخر کریں، جب کہ محکمہ موسمیات نے پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے اور ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے۔























