
مسرور احمد مسرور
==============

کینیڈا میں آٹو انڈسٹری بہت پھل پھول رہی ہے، لاکھوں کی تعداد میں گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جو سڑکوں پر دوڑتی پھرتی نظر آتی ہیں، یہاں بھی گاڑی ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے جس کی وجہ سے آٹو انڈسٹری تیزی کے ساتھ فروغ کی جانب گامزن ہے۔ البتہ اس انڈسٹری میں برقی گاڑیوںElectric Vehicles کی تیاری کے بعد سے ایک انقلاب برپا ہو گیا ہے اور لوگوں کی توجہ ان گاڑیوں کے بے شمار فوائد کے پیش نظر مبذول ہو رہی ہے اور مختلف کمپنیاں اب الیکٹرک وہیکلز کی تیاری میں مصروف ہیں لیکن فی الوقت گاڑیوں کے شوقین حضرات ٹیسلا (Tesla) کمپنی کی الیکٹرک گاڑیوں کی جانب مائل نظر آتے ہیں اور اسے خریدنے کے لیے پَر تولتے دکھائی دیتے ہیں حالیہ چند سالوں میں ٹیسلا EV کی خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور بہ دستور اس گاڑی کو خریدنے کے لیے اپنے ذرائع استعمال میں لا رہے ہیں۔ اس کمپنی کے مالک ایلون مسک ہیں جو دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہیں، کینیڈا میں مجموعی طور پر یہ الیکٹرک کاریں 2022 میں ہی ہزاروں کی تعداد میں رجسٹرڈ ہو چکی تھیں اس کے بعد سے اس میں اضافہ ہوتا رہا اور تعداد لاکھ سے اوپر جا پہنچی۔
ہم اس وقت کینیڈا کے صوبہ برٹش کولمبیا میں ہیں تو یہاں اس گاڑی کی خریداری اور ڈیمانڈ کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی ہے جس کے لیے ہم نے یہاں آٹو انڈسٹری کی مختلف کمپنیوں کے سینٹرز کا دورہ کیا اور خاص طور پر Tesla کمپنی کے شوروم بھی جانا ہوا، جہاں یہ پتا چلا کہ ٹیسلا کی “Y” ماڈل کی بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے اور خریداری کے عمل میں تیزی بھی نظر آتی ہے، البتہ زیادہ گاڑیاں لیزنگ کے ذریعے حاصل کی جا رہی ہیں۔ برٹش کولمبیا کی سڑکوں پر 2022 کے آخر تک یہاں موجود مجموعی گاڑیوں کی تعداد میں 51 فی صد ٹیسلا گاڑیاں موجود تھیں یعنی اس وقت 81 ہزار گاڑیوں میں سے 42 ہزار ٹیسلا ای وی تھیں۔
اسی طرح ٹیسلا EV کا مارکیٹ شیئر دوسری کمپنیوں کی گاڑیوں پر غالب نظر آتا ہے۔ برٹش کولمبیا میں ہزاروں کی تعداد میں ٹیسلا الیکٹرک کاریں موجود ہیں جن میں ایک بڑا حصہ ان گاڑیوں کا وینکور میں دیکھا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں ٹیسلا EV بھارت میں متعارف کرا دی گئی ہے، یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ماڈل “Y” تقریباً 70 ہزار یو ایس ڈالر اس کی قیمت رکھی گئی ہے جو تقریباً بھارتی 59 لاکھ روپے کے برابر ہے۔ ٹیسلا کا پہلا سینٹر ممبئی میں قائم کیا گیا ہے جبکہ جلد ہی دہلی میں بھی سینٹر کھولا جائے گا۔ بھارت میں یہ کار لگژری کاروں کے زمرے میں شامل کی جائے گی۔ بھارت دنیا میں گاڑیوں کی تیسری بڑی مارکیٹ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے بھارت میں ٹیسلا کو متعارف کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن حکومتی پالیسیاں، امپورٹ ڈیوٹی اور لوکل پیداوار کے تقاضے اس میں رکاوٹ تھے اس گاڑی کی قیمت زیادہ دکھائی دیتی ہے لیکن اس کا پلانٹ لگا کر اسمبلڈ کرنے کے بعد قیمت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں ابھی اس گاڑی کے حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں دیکھی گئی ہے۔ پہلے ہی سے موجود گاڑیوں کی کمپنیاں پریشانی کا شکار ہیں۔ ٹیسلا الیکٹرک کار ہر طرح سے ایک کامیاب گاڑی ہے۔ عالمی سطح پر اس کی فروخت اور مقبولیت بہت زیادہ ہے، یہ دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی الیکٹرک کار ہے۔ 2023 میں ٹیسلا نے 1.8 ملین سے زیادہ گاڑیاں فروخت کی ہیں، ٹیسلا کے “Y” ماڈل کی مانگ بہت زیادہ ہے۔
ٹیسلا کا دنیا بھر میں چارجنگ اسٹیشن نیٹ ورک ہے اس گاڑی کی خصوصیات کا ذکر کیا جائے تو اس میں بڑی ٹچ اسکرین، آٹو پائلٹ ڈرائیور، انٹرنیٹ کے ذریعے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ بہت کشادہ جدید اندرونی ڈیزائن اور باہر سے گاڑی کا پرکشش ہونا، فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز ہیں جہاں سے 15 منٹ کی چارجنگ سے گاڑی 300 کلو میٹر سے زیادہ سفر طے کر سکتی ہے۔
اس گاڑی کا ماڈل “S” سنگل چارج پر 652 کلو میٹر اور ماڈل 3 کا لانگ رینج 576 کلو میٹر بتایا جاتا ہے۔ ٹیسلا EV ایک مکمل برقی گاڑی ہے، پٹرول کی ضرورت ہی نہیں۔ زیرو کاربن اخراج ہے، اس لیے ماحول کو آلودگی سے بچاتی ہے یعنی ماحول دوست گاڑی ہے۔ مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہے، ٹریفک کے مطابق رفتار کو کنٹرول میں رکھتی ہے، اس کا دنیا کی محفوظ ترین گاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
بہت کم مینٹیننس آئل یا فلٹر کی ضرورت نہیں، مطلب یہ کہ خصوصیات کا ایک وسیع پیکیج ہے جو اس گاڑی میں موجود ہے جس کی وجہ سے ٹیسلا کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔























