
Syed Ali Salman==================
سانحہ شاہراہ بابو سر حقائق ۔۔۔
شاہراہ بابو سر پر ہونیوالے سیلابی ریلے کی تباہی سے پورا ملک غم میں ڈوبا ہوا ہے ایسے میں ضروری محسوس ہوتا ہے کہ کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھے جائیں ۔۔
پاکستان رقبے اور ابادی کے لحاظ سے ایک بڑا ملک ہے اور یہاں موسم میں بھی شدت پائ جاتی ہے جبکہ اس شدت کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیاں مل کر اسے اور متشدد بناتی ہیں ۔۔۔کہیں شدید بارش ہے تو دس کلو میٹر بعد بالکل خشکی ہے ۔۔کہیں درجہ حرارت صفر ہے تو چالیس کلو میٹر بعد درجہ حرارت بھی چالیس ہوگا ۔۔۔موسم کی یہ رنگینیاں بعض اوقات اپنے ساتھ مسائل بھی لیکر آتی ہیں ۔۔۔
کل سے سوشل میڈیا تبصروں سے بھرا پڑا ہے رنگ برنگے دانشور اور پھر رنگین تبصرے ۔۔۔مبصرین میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو سالہا سال کبھی گھر سے نکلے بھی نہیں ہونگے ۔۔۔تھگ ،شاہراہ بابو سر ودیگر نام بھی انہوں نے فیس بک پر سن رکھے ہونگے لیکن مبصر کی حیثیت سے خود کو پیش کرنا اور پھر لوگوں کو گمراہ کرنا بھی تو ضروری ہے ۔۔۔
یہ تحریر لکھنے سے پہلے میں نے ضروری سمجھا کہ کچھ معلومات مقامی افراد سے لے لی جائیں تاکہ سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی ہو ۔۔اس مقصد کے لیے سعید اللہ نواب میرے بڑے پیارے بھائ ہیں اور خاص اسی علاقہ کے ہیں ان سے کچھ معلومات حاصل کی ہیں جوکہ پیش خدمت ہیں ۔۔

چلاس زیرو پوائنٹ سے قریباً بیس کلو میٹر اور بابو سر ٹاپ سے قریبا پچیس کلو میٹر بعد جل کا علاقہ آتا ہے یہاں دو نالے آکر ملتے ہیں ۔۔کافی خوبصورت اور ٹھنڈی جگہ ہے ۔۔۔چھوٹے چھوٹے ہوٹل بھی بنے ہیں اکثر سیاح یہاں آکر کچھ دیر رکتے بھی ہیں زیادہ تر حضرات گاڑی کے بریک اور ٹائر ٹھنڈے کرنے کے لیے کچھ وقت یہاں گزارتے ہیں ۔۔قریبا ساڑھے تین بجے اس علاقہ میں ہلکی بارش شروع ہوتی ہے جو کچھ لمحے بعد تیز ہوجاتی ہے ۔۔۔مقامی افراد اور پولیس کی جانب سے گاڑیوں کو روکا جاتا ہے کہ آگے مت جائیں ۔۔۔کچھ رک جاتے ہیں اور کچھ سنی ان سنی کرکے آگے نکل جاتے ہیں ۔۔۔چار بجے کے قریب اطراف کے پہاڑوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی اور پتھروں کے تودے گرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔۔۔یاد رہے اس پوری پٹی کو علاقہ تھگ کہا جاتا ہے جس میں مختلف گاؤں آباد ہیں جن کے اپنے اپنے نام ہیں ۔۔۔لیکن جب ہم تھگ کہتے ہیں تو اس سے مراد یہ پورا دس سے پندرہ کلو میٹر کا علاقہ ہوتا ہے ۔۔ اسی تھگ کے آٹھ سے دس کلومیٹر کے حصے کو سیلابی ریلے نے متاثر کیا ہے اور یہاں شاہراہ بابو سر کو بہت نقصان پہنچا ہے ۔۔
جب مٹی اور پتھر آنا شروع ہوئے تو نالا تھگ بند ہوگیا اور پیچھے سے انیوالا سیلابی ریلا نالے کے ساتھ موجود سڑک پر چڑھ جاتا ہے ۔۔مقامی افراد کو صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہوچکا تھا انہوں نے بہت سے افراد کو گاڑیوں سے نکالا اور انہیں محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا ۔۔جبکہ کچھ لوگوں نے گاڑیوں کو ہی محفوظ پناہ گاہ سمجھا اور یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔۔جب ریلا بہت تیز ہوگیا تو مقامی افراد ان کی مدد کو بھی نہیں پہنچ سکے اور یہ افراد گاڑیوں سمیت سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے ۔۔اس میں بڑی گاڑیاں ،کوسٹر ،ویگن کاریں اور فور بائی فور جیپ سب شامل ہیں ۔۔۔

ایک بات جو یہاں سمجھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ قدرتی آفت کا کوئ مقابلہ بھی نہیں اور اس سے بچاؤ بھی کافی مشکل ہوتا ہے ۔۔۔دنیا کا ترقی یافتہ اور ریسکیو آپریشن میں سب سے آگے ملک امریکہ بھی قدرتی آفت کے سامنے بے بس نظر آتا ہے ۔۔ وہاں بھی گاڑیاں سڑکوں پر بہہ رہی ہوتی ہیں ۔۔۔جاپان سے زیادہ ترقی یافتہ کون ہوگا وہاں بھی جب افتاد آتی ہے تو سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔۔۔
اس علاقہ کا حدود اربعہ ایسا ہے کہ یہاں سیلاب یا ایسا ریلا جو گزشتہ روز آیا اس کی بہت کم توقع کی جاتی ہے ۔۔۔لیکن اوپر پہاڑوں پر بادل پھٹنے کی صورت میں سڑک کے دونوں اطراف سے جو کیچڑ اور مٹی وپتھر کے تودے سڑک پر گرے انہوں نے بہت نقصان کیا ۔۔۔لودھراں کا ایک خاندان جس کے بائیس لوگ ایک کوسٹر میں موجود تھے وہ بھی ایک تودے کی زد میں آکر ریلے کی نذر ہوا ۔۔۔
اب یہاں یہ کہہ دینا کہ گھر بیٹھتے تو نقصان نہ ہوتا ،اس موسم میں باہر جانے کی ضرورت کیا تھی وغیرہ وغیرہ ۔۔۔یہ سب باتیں اپنی جگہ ایک اہمیت ضرور رکھتی ہیں ۔۔لیکن اگر یہ لوگ گھر سے نہ نکلیں تو بھی اس علاقہ میں اچھی خاصی آبادی موجود ہے ۔۔۔پھر جو لوگ شاہراہ پر سفر کررہے ہیں ضروری نہیں سب سیاح ہوں ۔۔جیسا کہ کیچڑ میں پھنسی ایک گاڑی پولیس یا کسی ادارہ کی لگتی ہے جس پر نیلی بتی لگی ہے ۔۔۔
یہ ایک قدرتی آفت تھی جو کسی ترقی یافتہ شہر میں بھی نازل ہوسکتی ہے اج ہی صبح ملک کے سب سے ترقی یافتہ شہر اور اس کے پوش علاقہ ڈیفیس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک گاڑی بہہ گئ جس میں ایک فوجی افسر اور ان کی بیٹی سوار تھے ۔۔۔تاحال دونوں کے متعلق تفصیلات نہیں ملیں ۔۔۔
میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا تمام تر احتیاطی تدابیر اور حفاظتی پیمانوں کے اگر آپ کسی ایسی صورتحال میں پھنس جائیں تو کچھ فیصلے ہیں جو آپ نے فوری کرنے ہیں ۔۔۔
بارش کی صورت میں فورا گاڑی کسی محفوظ جگہ پر کھڑی کردیں ۔۔۔دریا یا برساتی نالے کا کنارہ ،یا پہاڑ کا دامن محفوظ جگہ نہیں ہیں ۔۔ کوئ بھی کھلا میدان یا قدرے اونچی جگہ محفوظ تصور کیجا سکتی ہے ۔۔۔
بارش کی شدت میں کمی نہ آرہی ہو تو آپ گاڑی اور سامان کی فکر نہ کریں اپنی جان بچائیں گاڑی کو وہیں چھوڑیں اور سب افراد اکٹھے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اس جگہ سے دور چلے جائیں جہاں پانی کے ریلے یا تودہ گرنے کا خطرہ موجود نہ ہو ۔۔۔جان بہت قیمتی ہے یہ بچ گئ تو گاڑی اور دیگر نقصانات کا ازالہ ممکن ہے لیکن جان کے
نقصان کا کوئ ازالہ ممکن نہیں ۔۔۔
کسی بھی ایسی ہنگامی صورتحال میں مقامی افراد کے مشورے اور ان کی رائے کو کبھی پس پشت نہ ڈالیں ۔۔۔چند سال پہلے ستمبر کے آخر میں میں اور دونوں بیٹے کمراٹ سے کالام بذریعہ بڈگوئ ٹاپ آرہے تھے ۔۔راستے میں ایک خوبصورت نالے کے کنارے رک گئے اور کافی دیر رکے رہے ۔۔سیاحتی موسم ختم ہوچکا تھا اور تب بڈگوئ ٹاپ اتنا معروف بھی نہیں تھا ۔۔۔وہیں رکے تھے کہ اوپر سے ایک جیپ مقامی مسافروں کو لیے آئ ۔۔اس نے ہمارے پاس گاڑی روکی اور اوپر ٹاپ کی جانب اشارہ کیا کہ اوپر بادل آرہے ہیں فورا ٹاپ عبور کرنے کی کوشش کرو اگر ٹاپ پر پھنس گئے تو بہت مشکل میں آجاؤ گے ۔۔۔اور اس کی یہ تلقین بہت بہترین رہی ہمارے حق میں ۔۔۔۔
مختصر یہ کہ قدرتی آفت کا مقابلہ ممکن نہیں فوری فیصلہ کرکے اس آفت سے بچ نکلنے کی تدبیر کی جائے ۔۔۔اگر کچھ مالی نقصان کے عوض جان بچتی ہو تو یہ گھاٹے کا سودا ہر گز بھی نہیں ہے ۔۔۔
نوید اشرف خان
واہ کینٹ
Bashukriya: Naveed Ashraf Khan

For Booking & Details Contact Us
0307-6122661
Book Now!
Departure Every weekend From Lahore – Gujranwala – Gujrat – Faisalabad – Islamabad
Services Included
– Luxury Transport
– Hotel Accommodation
– Breakfasts
– Dinners
– Tour Guide Facility
– Bonfire + Music
– BBQ
– Basic Photography
Why Choose Us?
– Confirm Departures
– 100% Satisfied Customers
– Best Price Packages
#qualityservice #North #fypシ゚ #skardu #airblue #Pakistan #airport #trip























