چین میں زرعی تحقیق میں تجربات اور کامیابیاں

اعتصام الحق
چین نے زراعت کے شعبے میں گزشتہ چند دہائیوں میں غیرمعمولی ترقی کی ہے اور غذائی تحفظ کے میدان میں قابل رشک کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ ترقی جدید سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور حکومتی پالیسیوں کے مثبت اثرات کا نتیجہ ہے۔ چین نے نہ صرف اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کیا ہے بلکہ زرعی برآمدات کے ذریعے عالمی منڈی میں بھی اہم مقام حاصل کیا ہے۔

اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے چین نے کسی ایک جہت نہیں بلکہ مختلف جہتوں میں کام کیا ہے اور سالہا سال کی محنت کے بعد اب بھی چین کا ماننا ہے کہ مستقبل کے لائحہ عمل میں مزید نئی تیکنیکی اختراعات اور وقت کی مناسبت سے تبدیل ہوتی پالیسیوں کا جاری رہنا ضروری ہے ۔چین نے سب سے پہلے جدید قسم کی فصلوں اور بائیو ٹیکنالوجی کی جانب توجہ دی اور ہائبرڈ اور جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلیں تیار کیں ۔ چینی سائنسدانوں نے زیادہ پیداوار دینے والی اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت کرنے والی فصلیں تیار کی ہیں جن میں “سپر چاول” کی مختلف اقسام ایک واضح مثال ہے جو روایتی چاول کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ پیداوار دیتی ہیں۔ اسی طرح گندم اور مکئی کی نئی اقسام بھی تیار کی گئی ہیں جو خشک سالی اور کیڑوں کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھتی ہیں۔ یہ فصلیں نہ صرف ملکی ضروریات کو پورا کر رہی ہیں بلکہ کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ کر رہی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی جدید آبپاشی کے نظام اور پانی کے موثر استعمال کے حوالے سے چین نے بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے ۔پانی کے تحفظ کے لیے چین نے جدید آبپاشی کے نظام متعارف کروائے ہیں۔ ڈرپ ایریگیشن سسٹم کے ذریعے پانی کے ضیاع کو کم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، سمارٹ سینسرز کے ذریعے کھیتوں میں نمی اور غذائی اجزاء کی سطح کو مانیٹر کیا جاتا ہے، جس سے کسانوں کو فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے کہ کب اور کتنی آبپاشی کرنی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر خشک علاقوں میں انتہائی مفید ثابت ہوئی ہے۔
مصنوعی ذہانت کا شعبہ زراعت کے ساتھ منسلک ہو کر غذائی تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے رہا ہے ۔زراعت میں اے آئی کا استعمال اور ساتھ ہی روبوٹکس کی مدد جدید کھیتی باڑی کے نئے اصول وضع کر رہی ہے ۔چین زراعت میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے استعمال میں دنیا میں نئی مثالیں قائم کر رہا ہے ۔ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کھاد اور کیڑے مار ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ ادویات کا صحیح استعمال بھی ممکن ہوتا ہے۔ خودکار ٹریکٹرز اور ہارویسٹرز کے ذریعے فصلوں کی کٹائی میں لیبر کے اخراجات کم ہوئے ہیں اور کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چین کے بڑے زرعی فارموں پر وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے۔
وٹیکل فارمنگ اور شہری زراعت بھی اس سللے کی اہم کڑی ہے جو جدید شہروں اور جدید طریقوں کو ملا کر شہری ضروریات کو پورا کر رہی ہے ۔ چین کے شہری علاقوں میں وٹیکل فارمنگ کو کافی فروغ مل رہا ہے۔ اس طریقہ کار میں عمارتوں کے اندر خاص ماحول میں سبزیاں اور پھل اگائے جاتے ہیں۔ایل ای ڈی لائٹس اور ہائیڈروپونک سسٹم کے ذریعے بغیر مٹی کے پودے اگائے جاتے ہیں، جس سے جگہ اور پانی کی بچت ہوتی ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر ان علاقوں کے لیے مفید ہے جہاں زرعی زمین کم ہے۔
اس کے علاوہ حیاتیاتی کھاد اور ماحول دوست کیڑے مار ادویات میں کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے چین نے بائیو فرٹیلائزرز اور فنگس و بیکٹیریا پر مبنی کیڑے مار ادویات کو فروغ دیا ہے۔ یہ ادویات نہ صرف ماحول دوست ہیں بلکہ زمین کی زرخیزی کو بھی برقرار رکھتی ہیں۔
ان تمام عوامل سے چین نے دنیا کی 20 فیصد آبادی کو صرف 9 فیصد قابل کاشت زمین پر خوراک فراہم کر کے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ گندم اور چاول کی پیداوار میں چین دنیا میں سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ، مچھلی اور ایکوا کلچر کے شعبے میں بھی چین نے بڑی ترقی کی ہے۔
پاکستان کی بات کریں تو پاکستان کے پاس چین کی اس کامیابی سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے ۔جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی پر توجہ دینے، چھوٹے کسانوں کو تربیت فراہم کرنے اور پانی کے موثر استعمال کو یقینی بنانے سے پاکستان بھی اپنی زرعی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔پاکستان چین کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے اہم منصوبے سی پیک میں شراکت دار ہے اور اس شراکت دای میں زرعی تعاون میں بھی نمایاں منصوبے پاکستان میں کام کر رہے ہیں جن سے پاکستان کے زرعی منظر نامے میں انقلابی تبدیلیاں حاصل کی جا سکتی ہیں ۔اس ضمن میں جدید مشینری اور جدید فارمنگ کے کچھ منصوبے پہلے ہی پاکستان کے مخلتف حصوں میں فعال ہیں جن سے امید ہے کہ مستقبل کی پاکستا نی زراعت بھی تبدیل ہو گی ۔